قرضکےمسائل
قرضواپسنہکرنےاورنااتفاقیپیداکرنےوالےچچاسےقطعتعلق
سوال:۔
میرے چچا نے میرے والد سے تقریباً ۱۰ سال قبل تقریباً ایک لاکھ روپے کا مال اس صورت میں لیا کہ فلاں فلاں دُکان دار کو دینا ہے، جب اس سے رقم مل جائے گی تو ادائیگی کردیں گے۔ اس سے قبل بھی یہ سلسلہ کرتے رہے اور رقم لوٹادیا کرتے تھے۔ اس مرتبہ کچھ عرصہ گزرنے پر رقم نہیں ملی، والد محترم نے تقاضا کیا تو چچا نے نقصان کا بہانہ بنادیا اور یکمشت اور فوری ادائیگی پر معذرت کی۔ آخر ۸ سال کا عرصہ گزر گیا، اس عرصے میں والد محترم نہ صرف خود اس کا تقاضا کرتے رہے بلکہ مجھ سے بھی تقاضا کرایا، مگر چچا خراب حالات اور مختلف بہانے کرتے رہے۔ آج سے ۲سال قبل والد محترم کا انتقال ہوگیا، جب میں نے رقم کا مطالبہ کیا تو پہلے انہوں نے بالکل انکار کیا کہ انہوں نے کوئی رقم نہیں دینی۔ آخر میرے یاد دِلانے پر انہوں نے کہا: ’’ہاں کچھ حساب تو ہے، اور ثبوت مہیا کریں، مگر اتنی لمبی رقم نہیں ہے۔‘‘ کبھی کہتے: ’’تمہارے والد نے مجھ سے رقم لے لی ہے‘‘ کبھی کچھ، کبھی کچھ بہانے کرتے رہے ہیں۔ میں نے خاندان کے کچھ بزرگوں کو اس معاملے کو حل کرانے کے لئے کہا تو انہوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا: ’’کوئی اس معاملے میں نہ بولے۔‘‘ چچا کے حالات بالکل ٹھیک ہیں، نہ صرف اب، بلکہ پہلے سے بھی ٹھیک ہیں۔ چچا نہ صرف لین دین کے معاملے میں ہی صحیح نہیں بلکہ عام گھریلو معاملات میں بھی میانہ روی نہیں کرتے۔ خاندان میں اور دُوسرے افراد کو ورغلانا اور ہمارے بہن بھائیوں میں بھی نااتفاقی پیدا کرنے میں اعلیٰ کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیا ایسی صورت میں چچا سے قطع تعلق کرلیا جائے؟
جواب:۔
اگریہاں نہیں دیتے تو قیامت میں دینا پڑے گا۔(۱) جہاں تک قطع تعلق کی بات ہے، زیادہ میل جول نہ رکھا جائے، لیکن سلام دُعا، عیادت اور جنازے میں شرکت وغیرہ کے حقوق منقطع نہ کئے جائیں۔(۲)
- (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: صاحب الدین ماسور بدینہٖ یشکو إلٰی ربہ الوحدۃ یوم القیامۃ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۲ باب الْافلاس والْانظار)۔
- (۲) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: للمسلم علی المسلم ست بالمعروف: یسلم علیہ إذا لقیہ، ویجیبہ إذا دعاہ ویشمتہ إذا عطس، ویعودہ إذا مرض، ویتبع جنازتہ إذا مات، ویحب لہ ما یحب لنفسہٖ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۹۸، باب السلام)۔

