قرضکےمسائل
ادائیگیکاوعدہکرتےوقتممکنہرُکاوٹبھیگوشگزاردیں
سوال:۔
کاروباری لین دین کے مطابق ہمیں یہ معلوم ہو کہ فلاں دن ہم کو پیسے بازار سے ملیں گے، دُکان دار کے وعدہ کے مطابق ہم کسی دُوسرے فرد سے وعدہ کرلیں کہ ہم آپ کو کل یا پرسوں پیسے ادا کردیں گے، اگر سامنے والا دُکان دار وعدہ خلافی کرے کسی بھی بنا پر، تو ہم اپنے کئے ہوئے وعدے پر قائم نہیں رہ سکتے، اب اگر ہم نے جس سے وعدہ کیا ہو، اسے موجودہ صورتِ حال بتادیں تو وہ یقین نہ کرے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم کچھ اور وجہ بیان کردیں تاکہ وہ ناراض بھی نہ ہو، کیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟
جواب:۔
غلط بیانی تو ناجائز ہی ہوگی، خواہ مخاطب اس سے مطمئن ہی ہوجائے۔(۱) اس کے بجائے اس سے وعدہ کرتے وقت ہی یہ وضاحت کردی جائے تو مناسب ہے کہ فلاں شخص کے ذمہ میرے پیسے ہیں اور فلاں وقت کا اس نے وعدہ کر رکھا ہے، اس سے وصول کرکے آپ کو دُوں گا۔ الغرض جہاں تک ممکن ہو وعدہ خلافی اور غلط بیانی سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ:
’’اَلتَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف ص:۲۴۳، بروایت ترمذی وغیرہ)
ترجمہ:۔ ’’سچا، امانت دار تاجر (قیامت کے دن) نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے:
’’اَلتُّجَّارُ يُحْشَرُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا، اِلَّا مَنِ اتَّقٰی وَبَرَّ وَصَدَقَ۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف ص:۲۴۴، بروایت ترمذی وغیرہ)
ترجمہ:۔ ’’تاجر لوگ قیامت کے دن بدکار اُٹھائے جائیں گے، سوائے اس شخص کے جس نے تقویٰ اختیار کیا اور نیکی کی اور سچ بولا۔‘‘
- (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: کبرت خیانۃ ان تحدث أخاک حدیثًا ھو لک بہٖ مصدق وأنت بہٖ کاذب۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۴۱۳، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)۔

