بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

فلیٹ‌کی‌تکمیل‌میں‌وعدہ‌خلافی‌پر‌جرمانہ‌وصولنا‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

میں نے ایک صاحب سے ایک عدد فلیٹ خریدا تھا، انہوں نے مجھ سے پوری رقم لے لی ہے، انہوں نے ایک تاریخ طے کرکے وعدہ کیا تھا کہ اس مقرّرہ تاریخ تک فلیٹ مکمل کردُوں گا، میں نے اس وقت ان کو یہ کہا تھا کہ یہ بات مشکل ہے، چنانچہ میں نے ان سے یہ بات کہی کہ اگر اس تاریخ تک آپ یہ فلیٹ مجھے مکمل کرکے نہ دیں گے تو آپ پر جرمانہ ہونا چاہئے۔ طے یہ پایا تھا کہ اگر اس تاریخ تک قبضہ نہ دیا تو اس علاقے میں اتنے بڑے فلیٹ کا جو کرایہ ہوگا ادا کروں گا۔ چنانچہ فلیٹ ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے اور میں نے ان سے اس کا کرایہ مبلغ دو ہزار روپے لینا شروع کردیا ہے۔ بعض دوستوں نے یہ بات بتائی کہ یہ رقم سود بن جاتی ہے۔ براہِ کرم فتویٰ دیں کہ اگر واقعتا یہ رقم سود ہے تو میں ان سے کرایہ نہ لوں۔

جواب:۔

جب بیچنے والے نے حسبِ وعدہ مقرّرہ مدّت میں مکان خریدار کے حوالے نہیں کیا تو بروقت مکان نہ دینے کی صورت میں باہمی جرمانے کا طے کرلینا دُرست نہیں ہے۔ خریدار اگر چاہے تو اس معاملے کو ختم کرسکتا ہے، لیکن زائد مدّت کے عوض جرمانہ وصول کرنا جائز نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ مکمل فلیٹ مقرّرہ مدّت میں نہ ملنے کی صورت میں جرمانہ لینا (خواہ نام ’’کرایہ‘‘ وغیرہ کوئی بھی تجویز کرلیں) سود ہے،(۱) اور جو وصول کیا ہے وہ بھی مالک کو واپس کرنا ضروری ہے۔(۲)

  1. (۱) (وذٰلک إعتیاض عن الأجل وھو حرام) وھٰذا لأن الأجل صفۃ کالجودۃ والْإعتیاض عن الجودۃ لَا یجوز فکذا عن الأجل ألَا تریٰ أن الشرع حرم الربا النسیئۃ ولیس فیہ إلّا مقابلۃ المال بالأجل شبھۃ فلا یکون مقابلۃ المال بالأجل حقیقۃ حرام أولٰی۔ (کفایۃ شرح ھدایۃ مع فتح القدیر ج:۷ ص:۳۹۶ کتاب الصلح، باب الصلح فی الدین)۔ أیضًا: فی رد المحتار: قولہ لَا بأخذ المال فی المذھب، قال فی الفتح: وعن أبی یوسف یجوز التعزیر للسلطان بأخذ المال وعندھما وباقی الأئمۃ لَا یجوز اھـ۔ ومثلہ فی المعراج، وظاھرہ أن ذالک روایۃ ضعیفۃ عن أبی یوسف قال فی الشرنبلالیۃ: ولَا یفتی بھٰذا لما فیہ من تسلیط الظلمۃ علٰی أخذ مال الناس فیأکلونہ اھـ۔ ومثلہ فی شرح الوھبانیۃ۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۶۱، مطلب فی التعزیر بأخذ المال)۔
  2. (۲) والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۹۹، باب البیع الفاسد)۔