بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

سود‌کی‌رقم‌قرض‌دار‌کو‌قرض‌اُتارنے‌کے‌لئے‌دینا

سوال:۔

سود کے پیسے اگر ہمارے پاس ہوں تو کیا ہم ان پیسوں سے قرض دار کو قرض ادا کرنے کے لئے دے سکتے ہیں یا نہیں؟ یا وہ پیسے صرف مسجد وغیرہ میں بیت الخلا پر ہی لگائے جاسکتے ہیں؟

جواب:۔

سود کے پیسوں سے اپنا قرض ادا کرنا جائز نہیں،(۱) نہ ان کو مسجد یا اس کے بیت الخلا میں لگایا جائے،(۲) بلکہ جس طرح ایک قابلِ نفرت اور گندی چیز سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے، اس خیال سے یہ سود کے پیسے کسی محتاج کو بغیر نیتِ ثواب دے دئیے جائیں۔(۳) سوال میں جس قرض دار کے بارے میں پوچھا گیا ہے اگر وہ واقعی محتاج ہے تو اس کو قرض ادا کرنے کے لئے سودی رقم دینا جائز ہے۔

  1. (۱) (ما حرَّم أخذہ حرم إعطاؤہ فأخذ الرشوۃ ممنوع کإعطائھا ومثل ذالک الربا وأجرۃ النائحۃ ۔۔۔إلخ۔ (شرح المجلۃ ص:۳۳ رقم المادّۃ:۳۴)۔ أیضًا: کما لَا یحل أکل الحرام لَا یحل إیکالہ قال صلی اللہ علیہ وسلم: لعن اللہ آکل الربا وموکلہ۔ وقال صلی اللہ علیہ وسلم: لعن اللہ الراشی والمرتشی۔ (المبسوط للسرخسی ج:۱۴ ص:۸۴)۔
  2. (۲) قال تاج الشریعۃ: اما لو أنفق فی ذالک مالًا خبیثًا، ومالًا سببہ الخبیث والطیب، فیکرہ لأن اللہ لَا یقبل إلّا الطیب فیکرہ تلویث بیتہ بما لَا یقبلہ۔ (در المختار ج:۱ ص:۶۵۸، مطلب فی أحکام المساجد)۔ وعن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ طیّب لَا یقبل إلّا طیّبًا۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۴۱ کتاب البیوع)۔
  3. (۳) وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہ بنیتۃ صاحبہ ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۹۹، مطلب فی من ورث مالًا حرامًا)۔ أیضًا: ویتصدق بلا نیۃ الثواب وینوی بہ برائۃ الذمۃ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۵ طبع صدف پبلشرز کراچی)۔