بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

صاحبِ‌قرض‌معلوم‌نہ‌ہو‌تو‌اُس‌کی‌طرف‌سے‌صدقہ‌کردیا‌جائے

سوال:۔

میں جب اسکول میں پڑھتا تھا، عمر پندرہ سولہ سال تھی، اس وقت ہندو حلوائی سے حلوہ پوری کبھی کبھی اُدھار لے کر کھاتا تھا، صوبہ بنگال میں میرے والد اسٹیشن ماسٹر تھے، تبادلہ ہوتا رہتا تھا، اس لئے وہ قرض ادا نہیں ہوتا تھا، اب وہ شہر بنگال انڈیا میں ہیں، ان ہندوؤں کا پتا بھی نہیں ہوگا، پچاس سال گزرچکے، اب کیسے قرض ادا ہو؟ جو یاد بھی نہیں۔ اس وقت ایک پیسے کی پوری ملتی تھی، زیادہ سے زیادہ چند روپے بنیں گے۔

جواب:۔

جب صاحبِ حق معلوم نہ ہو کہ اس کو اس کا حق لوٹایا جاسکے تو اس کی طرف سے صدقہ کردینا چاہئے، پس آپ اس حلوائی کی طرف سے اتنی رقم صدقہ کردیں۔(۱)

  1. (۱) ایضاً حوالۂ بالا۔