بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

کیا‌ہندوؤں،‌سکھوں‌کی‌طرف‌سے‌قرض‌صدقہ‌کرنے‌سے‌ادا‌نہیں‌ہوگا؟

سوال:۔

میرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ایک بزرگ جب ہندوستان میں تھے، قیامِ پاکستان سے قبل وہ ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں سے کاروبار کرتے تھے، اس زمانے میں ۴۷-۱۹۴۶ء میں کسی کو ۲۰روپے اُدھار دینے تھے، کسی سکھ کو ۵۰روپے، کسی ہندو کو ۴۰روپے، الغرض مسلمان، ہندو، سکھ حضرات پر کم و بیش ۴۰۰،۵۰۰روپے تو اُدھار ہوں گے۔ پاکستان بن گیا، یہ کراچی آگئے، تمام زندگی اس اِحساس میں گزاری کہ ان کی رقم دینی ہے، مگر کوئی ذریعہ نہ بن سکا۔ پھر آخرکار وہ کبھی ۵۰۰روپے، کبھی ۱۰۰۰روپے اسی نام کے خیرات کرتے رہے، دِل مطمئن نہ ہوا۔ ابھی چند دِن قبل ۳۰۰۰روپے خیرات کئے کہ کسی طرح ان کے قرضے سے نجات ملے، انہیں کسی نے کہا: حضرت! سکھ اور ہندوؤں کا قرضہ نہیں اُترے گا، مسلمانوں کا اُتر جائے گا۔ اللہ عزّ وجل کا خوف دِل میں بکثرت ہے، اپنی زندگی میں بھی اس قرض کو اَدا کرنا چاہتے ہیں، کیا اس طرح عدم ادائیگی قرض کا کوئی کفارہ ہوسکتا ہے؟

جواب:۔

اگر ان اشخاص کے وارث معلوم ہیں تو ان وارثوں سے معاملہ طے کرنا چاہئے، ورنہ جو کچھ اس نے کیا ہے، ٹھیک ہے، یعنی ان کی طرف سے صدقہ کردیا۔(۱)

  1. (۱) علیہ دیون ومظالم جھل أربابھا وأیس من علیہ ذٰلک من معرفتھم فعلیہ التصدق بقدرھا من مالہ ۔ وفی الشامیۃ: (قولہ جھل أربابھا) یشمل ورثتھم فلو علمھم لزمہ الدفع إلیھم لأن الدین صار حقھم۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص: ۲۸۳)۔ وفی فتاویٰ قاضیخان: رجل لہ حق علٰی خصم فمات ولَا وارث لہ تصدق عن صاحب الحق بقدر مالہ علیہ لیکن ودیعۃ عند اللہ یوصلھا أی خصمائہ یوم القیامۃ ۔۔۔إلخ۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۹۴، بیان أقسام التوبۃ، طبع دھلی)۔