قرضکےمسائل
ایسےمرحومکاقرضکیسےاداکریںجسکاقریبیوارثنہہو؟
سوال:۔
اگر کوئی شخص کسی سے قرض لے اور قرض دینے والے شخص کا اِنتقال ہوجائے، اور اس شخص کے بیوی بچے بھی نہ ہوں، صرف سوتیلی والدہ، سوتیلے بہن بھائی اور اس کے کزن وغیرہ ہوں، ایسی صورت میں قرض کیسے ادا کیا جائے گا؟
جواب:۔
جس مرحوم کا قرضہ ادا کرنا ہے، یہ دیکھا جائے کہ اس کے رشتہ داروں میں اس کا قریب ترین عزیز کون ہے؟ اس کے حوالے کردیا جائے، اور اسے کہہ دیا جائے کہ علماء سے پوچھ کر جن جن کا یہ پیسہ بنتا ہو، ان کو دے دیا جائے۔(۱)
- (۱) (قولہ جھل أربابھا) یشتمل ورثتھم فلو علمھم لزمہ الدفع إلیھم لأن الدین صار حقھم۔ (فتاویٰ شامی، کتاب اللقطۃ ج:۴ ص:۲۸۳)۔ وفی فتاویٰ قاضیخان: رجل لہ حق علٰی خصم فمات ولَا وارث لہ تصدق عن صاحب الحق بقدر مالہ علیہ لیکن ودیعۃ عند اللہ یوصلھا أی خصمائہ یوم القیامۃ ۔۔۔إلخ۔ (شرح فقہ الأکبر ص: ۱۹۴، بیان أقسام التوبۃ، طبع دھلی)۔

