بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

قرض‌دہندہ‌اگر‌مرجائے‌اور‌اُس‌کے‌ورثاء‌بھی‌معلوم‌نہ‌ہوں‌تو‌کیا‌کیا‌جائے؟

سوال:۔

میرے والد کا اِنتقال ۱۹۵۹ء میں ہوا تھا، اِنتقال سے کچھ دن پہلے انہوں نے مجھے اور میری والدہ کو یہ بتادیا تھا کہ ان کے اُوپر کچھ لوگوں کے قرضے ہیں، جو ہم نے ان کے اِنتقال کے کچھ دِنوں بعد اَدا کردئیے، لیکن پھر چند مہینے بعد والد صاحب کے ایک دوست نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ کے والد نے ہم سے ۲۵ یا ۳۰روپے قرض لیا تھا، لیکن چونکہ میرے والد نے اس کا ذِکر نہیں کیا تھا اور کچھ ان صاحب کی عادات کی وجہ سے ہم نے اس کا یقین نہیں کیا۔ اور پھر ۱۹۶۶ء میں ہم سب پاکستان آگئے، اور اَب ہمیں یہ خیال آتا ہے کہ کیا پتا ان کا کہنا صحیح ہو؟ اور ہمارے والد صاحب ان کے مقروض ہوں، لہٰذا اب ہم اس قرض کو اَدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ان صاحب کا اِنتقال ہوچکا ہے اور ہمارا اُن کے ورثاء سے کوئی رابطہ بھی نہیں ہے۔ چنانچہ اب یہ پوچھنا ہے کہ میں کتنی رقم اور کس طرح سے اس کی ادائیگی کروں تاکہ والد صاحب کا قرض اُتر جائے؟

جواب:۔

ان صاحب کے وارثوں کا پتا کرنا چاہئے، اور ان کی تلاش کرنی چاہئے، اور تمہارے والد کے ذمے جتنا قرض تھا وہ ان وارثوں تک پہنچانا چاہئے، اگر بالفرض وہ نہ ملیں تو اتنی رقم مرحوم کی طرف سے صدقہ کردی جائے۔(۱)

  1. (۱) علیہ دیون ومظالم جھل أربابھا وأیس من علیہ ذٰلک من معرفتھم فعلیہ التصدق بقدرھا من مالہ ۔۔۔إلخ۔ (درمختار، کتاب اللقطۃ ج:۴ ص:۲۸۳)۔ وفی فتاویٰ قاضیخان: رجل لہ حق علٰی خصم فمات ولَا وارث لہ تصدق عن صاحب الحق بقدر مالہ علیہ لیکن ودیعۃ عند اللہ یوصلھا أی خصمائہ یوم القیامۃ ۔۔۔إلخ۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۹۴، بیان أقسام التوبۃ، طبع دھلی)۔