بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

مسلمان،‌ہندو‌دُکان‌داروں‌کا‌قرض‌کس‌طرح‌ادا‌کریں؟‌جبکہ‌وہ‌ہندوستان‌میں‌تھے

سوال:۔

ہمارے کچھ لوگ انڈیا کے رہنے والے ہیں، ان کی کئی ایک بہنیں تھیں اور ایک بھائی تھا جو کہ عادت کا بہت خراب نکل گیا، باپ چونکہ نواب تھے، جب نوابی ختم ہوئی تو گھر کا خرچ چلنا بھی مشکل ہوگیا، اب دو بہنیں غیرشادی شدہ گھر کا بوجھ سنبھالنے لگیں، بیمار ماں کچھ دن بعد مرگئی، اس کے بعد باپ کا بھی اِنتقال ہوگیا، پھر یہ خاتون پاکستان آگئیں اپنی ایک شادی شدہ بہن کے پاس، اب انڈیا میں دو تین دُکانوں کا قرضہ رہ گیا، کون ادا کرتا؟ دونوں دُکان دار ہندو تھے اور ایک مسلمان۔ اب سنا ہے کہ ان لوگوں کا اِنتقال ہوگیا ہے۔ مولانا صاحب! اب ان خاتون کی یہاں شادی ہوگئی ہے، اتنی مال دار بھی نہیں ہیں، بس گزارہ ہوتا ہے، اب ایسی صورت میں اس قرضے کا وبال کس طرح ادا ہوگا؟ اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یہ خاتون چونکہ گھر کا سودا سلف منگواتی تھیں، تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اور یہ قرضہ چونکہ یاد بھی نہیں ہے کہ کتنا تھا؟ کس طرح سے ادا ہوگا؟ دُوسرے ان کے گھر میں ایک پُرانی نوکرانی تھی، اس کا بھی کچھ چاندی کا زیور تھا، وہ بھی بیچ کر ان لوگوں نے خرچ کرلیا، وہ نوکرانی بہت پہلے اِنتقال کرگئی تھی، اس کی ادائیگی کس کے ذمے ہے؟ اور کس طرح ادا ہوگا؟ یہ خاتون آخرت کے عذاب سے بہت خوف زدہ ہیں اور اس مسئلے کا حل چاہتی ہیں۔

جواب:۔

آخرت کا معاملہ ہے بھی خوف کی چیز! کہ حق تعالیٰ شانہ‘ ہر صاحبِ حق کا حق اس کو دِلائیں گے اور وہاں روپیہ پیسہ تو ہوگا نہیں، بس نیکیاں اور بدیاں ہوں گی، جتنے لوگوں کا حق اس کے ذمے تھا، اس کی اتنی نیکیاں اہلِ حقوق کو دِلائی جائیں گی، اور جب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اور اس کے ذمے حقوق ابھی باقی ہوں گے تو ان لوگوں کی بدیاں، حقوق کے بدلے میں اس پر ڈال دی جائیں گی۔(۱) اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھیں! کیسی ذِلت اور رُسوائی کا سامنا ہوگا، اس لئے عقل مند اور دانا وہ شخص ہے جو کسی کا حق لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نہ جائے۔ اس خاتون نے جو قرضے لئے تھے، وہ اسی کے ذمے ہیں اور ذمے رہیں گے، مسلمان دُکان دار یا نوکرانی کا جو حق اس کے ذمے ہے، وہ ان کے وارثوں کو تلاش کرکے ان کو اَدا کرنا چاہئے، یا ان سے معاف کرانا چاہئے۔ اور غیرمسلم دُکان داروں کا معاملہ اور بھی سنگین ہے، اس لئے ان کے وارثوں کا پتا کرکے ان کو بھی ان کی رقم ادا کرنی چاہئے، یا ان سے معاف کرانی چاہئے۔

اور اگر ان کے وارثوں کا پتا نہیں مل سکتا اور اتنا سرمایہ بھی نہیں کہ ان کی طرف سے صدقہ کردیا جائے تو اللہ تعالیٰ سے دُعا کیا کریں کہ: ’’یا اللہ! میرے ذمے فلاں فلاں لوگوں کے حقوق ہیں، میرے پاس ان کے حقوق ادا کرنے کی بھی گنجائش نہیں، آپ اپنے خزانے سے ان کے حقوق ادا کرکے مجھے معافی دِلادیجئے۔‘‘ ہمیشہ دُعا کرتی رہیں، کیا بعید ہے کہ کریم آقا اپنے پاس سے اُن کے حقوق ادا کرکے اس کو معافی دِلوادے۔(۲)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: أتدرون ما المفلس؟ قالوا: المفلس فینا من لَا درھم لہ ولَا متاع! فقال: إن المفلس من اُمّتی من یأتی یوم القیامۃ بصلاۃ وصیام ویأتی قد شتم ھٰذا وقذف ھٰذا وأکل مال ھٰذا وسفک دم ھٰذا وضرب ھٰذا، فیعطی ھٰذا من حسناتہ وھٰذا من حسناتہ، فإن فنیت حسناتہ قبل أن یقضٰی ما علیہ، أخذ من خطایاھم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار۔ (مشکٰوۃ ص:۴۳۵ باب الظلم)۔
  2. (۲) علیہ دیون ومظالم وجھل أربابھا وأیس من علیہ ذٰلک من معرفتھم فعلیہ التصدق بقدرھا من مالہ۔ وفی الشامیۃ: (قولہ جھل أربابھا) یشمل ورثتھم فلو علمھم لزمہ الدفع إلیھم لأن الدین صار حقھم۔ (در مختار مع تنویر الأبصار، کتاب اللقطۃ ج:۴ ص:۲۸۳)۔ وفی فتاویٰ قاضی خان: رجل لہ حق علٰی خصم فمات ولَا وارث لہ، تصدق عن صاحب الحق بقدر مالہ علیہ، لیکن ودیعۃ عند اللہ تعالٰی یوصلھا أی خصمائہ یوم القیامۃ، وإذا عصب مسلم من ذمی مالًا أو سرق منہ فإنہ یعاقب بہ یوم القیامۃ، لأن الذمی لَا یرجٰی عنہ العفو، فکانت خصومۃ الذمی أشد۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۹۴، بیان أقسام التوبۃ، طبع دھلی)۔