بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

نامعلوم‌ہندوؤں‌کا‌قرض‌کیسے‌ادا‌کریں؟

سوال:۔

آج سے تقریباً ۴۰ سال قبل ہمارا ہندو سیٹھ جن سے کاروباری لین دین کا معاملہ تھا، وہ ہندو، تقسیمِ پاکستان کے وقت یہاں سے ہندوستان چلے گئے، وہ ہندو سیٹھ بغیر اپنا ایڈریس بتائے یہاں سے چلے گئے۔ پریشانی یہ ہے کہ ان کا کچھ روپیہ ہمارے پاس رہ گیا، بطور قرض۔ اب مجھے یہ یاد نہیں کہ ان کی کتنی رقم ہماری طرف ہوتی ہے؟ وہ ہندو جب چلے گئے تو انہوں نے وہاں سے ہمارے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں رکھا، نہ ہی اپنا کوئی پتا، ٹھکانا ہمیں بتایا۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ ہندو اگر زندہ ہوں تو ان کی رقم انہیں لوٹادُوں، اگر وہ زندہ نہیں تو ان کے جو وارث ہیں انہیں وہ رقم واپس کردُوں، مگر پریشانی یہ ہے کہ نہ ہی وہ رقم مجھے یاد ہے، نہ ان کا ٹھکانا معلوم ہے۔ اب آپ مہربانی فرماکر یہ بتائیں کہ اب اس سلسلے میں کیا کروں؟ خدانخواستہ اس رقم کی آخرت میں مجھ سے پکڑ ہوگی، میں تو ایمان داری سے ان کی رقم لوٹانے کو تیار ہوں، ان ہندوؤں کی تعداد آٹھ یا دس ہے۔

جواب:۔

رقم کتنی ہے؟ اس کا تو اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے، تخمینہ لگائیے کہ تقریباً اتنی ہوگی، جتنی رقم سمجھ میں آئے اتنی رقم کسی ضرورت مند کو دے دیں اور اپنے ذمہ سے بوجھ اُتارنے کی نیت کرلیں۔(۱)

  1. (۱) علیہ دیون ومظالم جھل أربابھا وأیس من علیہ ذٰلک من معرفتھم فعلیہ التصدق بقدرھا من مالہ ومتٰی فعل ذٰلک سقط عنہ المطالبۃ من أصحاب الدیون۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۸۳)۔ أیضًا: قال ابن عابدین رحمہ اللہ: والحاصل انہ إن علم أرباب الأموال وجب ردّہ علیھم وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہٖ بنیۃ صاحبہٖ۔ (ج:۵ ص:۹۹)۔