قرضکےمسائل
نامپتانہبتانےوالےکیمالیامدادکیسےواپسکریں؟
سوال:۔
گزارش ہے کہ کچھ عرصہ قبل میرے ساتھ ایک حادثہ پیش آگیا تھا جو کہ دُوسرے شہر میں ہوا تھا۔ اس میں ایک صاحب نے میری مالی امداد کی تھی، میرے بے حد اِصرار پر بھی انہوں نے اپنا نام و پتا نہیں بتایا تھا، اس وقت سے اب تک میں ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوں۔ آپ بتائیں کہ میں اس رقم کو کیسے واپس کروں اور اس کا قرآن و حدیث میں کیا حکم ہے؟
جواب:۔
جب ان صاحب نے اپنا نام و پتا نہیں بتایا تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی نیت اس رقم کو واپس لینے کی نہیں تھی۔ اس لئے واپس کرنے کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اور اگر آپ کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دے رکھی ہے تو اتنی رقم ان صاحب کی طرف سے صدقہ کردیجئے۔(۱)
- (۱) قال: والعطیۃ علٰی أربعۃ أوجہ، أحدھا للفقیر للقربۃ والمثوبۃ ولَا یکون فیھا رجوع وھی صدقۃ۔ (النتف فی الفتاویٰ ص:۳۱۲)۔

