بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

قومی‌قرضوں‌کا‌گناہ‌کس‌پر‌ہوگا؟

سوال:۔

مقروض پر قرضے کا زبردست بوجھ ہوتا ہے، یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مقروض کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے، جب تک آپ کو اللہ نے وسعت نہ دی تھی، بعد میں اس کا قرض اپنے ذمہ لے کر آپ نمازِ جنازہ ادا کرتے تھے۔

ہماری قوم پر اربوں ڈالر کا قرض ہے، جو قوم کے نام پر ورلڈ بینک سے لیا گیا ہے، اس کی اصل اور سود جو اَربوں روپے بنتا ہے ہر فرد پر واجب ہے، اور یہ قرض مع اصل اور سود ہر شخص پر واجب ہے۔ اب سوال یہ ہے نمازِ جنازہ پڑھاتے وقت یہ قرض پریذیڈنٹ، پرائم منسٹر، فنانس منسٹر اور اس کے عملے کے کھاتے میں ڈالا جائے یا مرنے والے کے رشتہ دار اصل قرض بغیر سود حکومتِ وقت کو ادا کردیں تاکہ وہ ورلڈ بینک کو ادا کرسکیں؟ کیا مقروض حالت میں نمازِ جنازہ ہوگی، جس کی ذمہ داری کوئی نہ لے؟ اب تک جو لوگ بلاواسطہ حکومتی قرض کی حالت میں مرے ہیں، کیا بخشے جائیں گے؟ بہت سے لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، یہ سوال پوچھتے ہیں، جس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔

جواب:۔

قومی قرضے افراد کے ذمے نہیں، بلکہ حکومت کے ذمہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کی مسئولیت براہِ راست افراد سے نہیں۔ جس حکومت نے یہ قرضے لئے ہیں، اسی سے اس کی مسئولیت ہوگی، مگر چونکہ حکومت، عوام کی نمائندگی کرتی ہے، اس لئے غیراِختیاری طور پر عوام پر بھی ان قرضوں کے اثرات پڑتے ہیں، اگرچہ افراد گناہگار نہیں۔