بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

دس‌سال‌قبل‌کا‌قرض‌کس‌حساب‌سے‌واپس‌کریں؟

سوال:۔

ایک شخص مثلاً زید نے بکر کو ایک لاکھ روپے قرض دئیے، یا بکر کے ہاتھ کوئی چیز ایک لاکھ روپے میں فروخت کی، بکر نے قرض کی ادائیگی میں مثلاً دس سال تأخیر کی۔ ادھر دس سال بعد روپے کی قیمت پہلے سے بہت زیادہ گر چکی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا زید اس بات کا پابند ہے کہ وہ بکر سے ایک لاکھ روپے ہی وصول کرے؟ یا روپے میں کمی کے تناسب سے زائد رقم وصول کرنے کا مجاز ہوگا؟ اگر وہ فقط وہی ایک لاکھ روپے وصول کرے تو اس میں زید کا بڑا نقصان ہے، اور اس طرح اُدھار لین دین کرنا اور قرض دینا مسدود ہوجائے گا، جس میں ظاہر ہے بڑا حرج ہے، اور اگر وہ زیادہ رقم لیتا ہے تو اس میں سود کا اندیشہ ہے، شریعتِ اسلامیہ کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب:۔

یہ ناکارہ تو سود سے بچنے کے لئے یہی فتویٰ دیتا تھا، لیکن روپے کی قیمت مسلسل کم ہونے نے مجھے اس رائے کے بدلنے پر مجبور کردیا، البتہ اس میں یہ امر لائقِ توجہ ہے کہ جب ہمارے یہاں روپے کی قیمت میں کمی کا اِعلان کیا جاتا ہے (اور کبھی اِعلان کے بغیر ہی یہ حرکت کی جاتی ہے) تو اس کا معیار کیا ہوتا ہے؟ یہ ناکارہ مالیات سے واقف نہیں، مگر خیال ہے کہ آج کل دُنیا میں امریکی ڈالر کا راج ہے، اس لئے ہماری کرنسی کا معیار بھی وہی ہوگا، اگر میرا یہ قیاس صحیح ہے تو امریکی ڈالر کو معیار بناکر دس برس پہلے کی قیمت واجب الادا سمجھنی چاہئے، ورنہ سونے کو معیار بنایا جائے۔ یہ جو اس ناکارہ نے لکھا ہے، اس کی حیثیت فتویٰ کی نہیں، بلکہ ایک ذاتی رائے یا خیال کی ہے، دیگر اکابر اہلِ فتویٰ سے رُجوع کیا جائے، اور وہ حضرات جو فتویٰ دیں اس پر عمل کیا جائے۔(۱)

القروض یجب فی الشریعۃ الْإسلامیۃ أن تقضی بأمثالھا۔ (بحوث فی قضاھای فقھیۃ معاصرۃ ص:۱۷۴، طبع دارالعلوم کراچی)۔ أیضًا: الدین تقضی بأمثالھا۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۸۴۸، کتاب الأیمان، مطلب الدیون تقضی بأمثالھا)۔ الدیون تقضی بأمثالھا۔ (الأشباہ والنظائر ص:۲۵۶، الفن الثانی، کتاب المداینات)۔ ھو عقد مخصوص یرد علٰی دفع مثلی لیردّ مثلہ۔ (تنویر الأبصار مع الدر المختار ج:۵ ص:۱۶۱، باب المرابحۃ والتولیۃ، فصل فی القرض)۔ والذی یتحقق من النظر فی دلَائل القرآن والسُّنَّۃ ومشاھدۃ معاملات الناس أن المثلیۃ المطلوبۃ فی القرض ھی المثلیۃ فی المقدار والکمیۃ، دون المثلیۃ فی القیمۃ والمالیۃ۔ (بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ ص:۱۷۴، طبع دار العلوم کراچی) وکذا فی الفتاوی العالمگیریۃ ج:۵ ص:۳۶۶ کتاب الکراھیۃ، الباب السابع والعشرون فی القرض والدین)۔

  1. (۱) دُوسرے علمائے کرام کی رائے اور فتویٰ یہ ہے کہ جتنے روپے قرض لئے تھے اتنے ہی واپس کرنے کا حکم ہے، خواہ روپے کی قیمت کم ہوجائے یا زیادہ، ہاں! اگر روپے قرض دینے کے بجائے ڈالر قرض دے دئیے جائیں یا کوئی اور کرنسی تو پھر وہی کرنسی واپس کرنے کا حکم ہوگا۔