قرضکےمسائل
قرضکیادائیگیکسطرحکیجائے،ڈالروںمیںیاروپوںمیں؟
سوال:۔
میں نے آج سے چار سال سے زائد عرصہ ہوا، اپنے ایک دوست سے بیس ہزار روپے اُدھار لئے تھے، بغیر کسی پیشگی شرط کے، اُصولاً مجھے یہ رقم جلد ادا کردینی چاہئے تھی، لیکن میں باوجود کوشش کے ایسا نہ کرسکا، جبکہ پچھلے سات سال سے یورپ میںمقیم ہوں، جس وقت میں نے یہ رقم لی تھی اس وقت امریکی ڈالر کی قیمت کم وبیش ۲۰روپے تھی، چنانچہ میں نے اپنے دِل میں اسی وقت یہ فیصلہ کرلیا کہ میں ایک ہزار ڈالر بھیج دُوں گا، اب جبکہ میں نے انہیں ایک ہزار ڈالر بھیجے تو انہوں نے پانچ سو ڈالر یہ کہہ کر واپس کئے کہ میں نے اپنے بیس ہزار روپے لے لئے ہیں اور باقی تمہیں واپس کر رہا ہوں، کیونکہ میں نے تمہیں بیس ہزار روپے پاکستانی دئیے تھے نہ کہ امریکی ڈالر۔ میرا یہ اِصرار ہے کہ جس وقت میں نے رقم اُدھار لی تھی، اس وقت ڈالر کی قیمت بیس روپے تھی، اب اگر ڈالر کی قیمت بڑھ گئی اور دُگنی ہوگئی ہے تو اس میں کسی کا کیا دوش؟
دُوسرا یہ تو بڑے ظلم کی بات ہے کہ آج سے چار سال پہلے قیمت اور مہنگائی کا حساب لگائیں تو آج کے چالیس ہزار اس وقت کے بیس ہی ہزار کے برابر تھے، لیکن وہ بضد ہیں اور کہتے ہیں یہ سراسر سود ہے، جو میں کسی قیمت پر نہیں لوں گا۔ میرا اِصرار اَب بھی اپنی جگہ پر قائم ہے اور اس کو ظلم وزیادتی سمجھتا ہوں کہ ایک شخص رقم اُدھار دے اور موجودہ خراب تر معاشی صورتِ حال میں اس کی رقم کی قدر وقیمت آدھی رہ جائے، جبکہ اس میں دونوں کا کوئی قصور نہیں ہے، اس مشکل کا حل علمائے حق کے نزدیک کیا ہوسکتا ہے؟
جواب:۔
یہ مسئلہ بہت اُلجھا ہوا ہے، اس میں میری رائے یہ ہے کہ امریکی ڈالر کے مساوی جو رقم بنتی ہو، وہ دی جائے، اس لئے کہ پاکستانی روپے کی قیمت خودبخود نہیں گرتی، بلکہ گرائی جاتی ہے، اور اس میں امریکی ڈالر کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے، اس لئے جس وقت قرض لیا تھا، اس وقت اس رقم کے جتنے امریکی ڈالر بنتے تھے، وہ واجب الادا ہوں گے۔ دُوسرے علماء سے بھی اس کی تحقیق کی جائے۔(۱)
- (۱) ولو إستقرض فلوسًا نافقۃ وقبضھا ولم تکسد، لٰکنھا رخصت أو غلت، فعلیہ ردّ مثلہ ما قبض بلا خلاف۔ (بدائع الصنائع، فصل فی حکم البیع ج:۷ ص:۲۳۷ طبع بیروت)۔ أیضًا: رجل استقرض من آخر مبلغًا من الدراھم وتصرف بھا ثم غلا سعرھا فھل علیہ ردھا مثلھا؟ الجواب: نعم، ولَا ینظر إلٰی غلاء الدراھم ورخصھا۔ (تنقیح الفتاوی الحامدیۃ ج:۱ ص:۲۹۴، باب القرض، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

