بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

قرض‌اُتارنے‌کے‌لئے‌سودی‌قرضہ‌لینا

سوال:۔

میں کچھ لوگوں کا مقروض ہوں، اب میں یہ قرضہ ادا کرنا چاہتا ہوں، مگر میرے پاس وسائل نہیں ہیں، اب اگر یہ قرضہ اُتارنے کے لئے میں حکومت سے قرضہ لیتا ہوں تو اس پر سود اَدا کرنا پڑتا ہے، عرض یہ ہے کہ میری رہنمائی فرمائیے کہ میں کیا کروں؟ آیا لوگوں کا قرضہ اُتارنے کے لئے حکومتی قرضہ لے لوں اور اس پر سود اَدا کردوں؟

جواب:۔

قرض اُتارنے کے لئے حکومت کے کسی اِدارے سے سودی قرضہ لینے کا مشورہ آپ کو نہیں دے سکتا، کیونکہ سودی قرضہ لینا گناہ ہے۔(۱) اور کئی آدمی میرے علم میں ہیں جنہوں نے ایسی ہی ضرورتوں کے لئے بینک سے قرضہ لیا، لیکن ہمیشہ کے لئے سودی قرضے میں جکڑے گئے، وہ اپنے قرض سے کئی گنا رقم بینک کو اَدا کرچکے ہیں، بلکہ سود در سود کا چکر اَب بھی چل رہا ہے۔

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ البقرة ٢٧٥۔ عن علی امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ مرفوعًا: کل قرض جر منفعۃ فھو ربا، وکل قرض شرط فیہ الزیادۃ فھو حرام بلا خلاف۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۴۹۹ طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔ قَالَ تَعَالَىﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُواْ ٱلرِّبَوٰٓاْ أَضۡعَٰفٗا مُّضَٰعَفَةٗۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ١٢٩ وَٱتَّقُواْ ٱلنَّارَ ٱلَّتِيٓ أُعِدَّتۡ لِلۡكَٰفِرِينَ ١٣٠ ﵞآل عمران ۔