قرضکےمسائل
قرضکیواپسیپرزائدرقمدینا
سوال:۔
میرا بھائی میرے سے قرض دس روپیہ لے لیتا ہے، اور واپسی پر مجھے خوشی سے پندرہ دیتا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ یہ کہیں سود تو نہیں ہے؟
جواب:۔
اگر زائد روپے بطور معاوضہ کے دیتا ہے تو سود ہے،(۱) اور اگر ویسے ہی اپنی طرف سے بطور انعام و احسان کے دیتا ہے تو پھر بعد میں کسی اور موقع پر دے دیا کرے۔(۲)
- (۱) ایضاً عن علی أمیر المؤمنین مرفوعًا: کل قرض جر منفعۃ فھو ربا۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۵۱۲، باب کل قرض جر منفعۃ فھو ربا)۔ وفی الشامیۃ: کل قرض جرّ نفعًا فھو حرام۔ (ج:۵ ص:۱۶۶)۔ ...الخ
- (۲) عن جابر رضی اللہ عنہ قال: کان لی علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم دین فقضا لی وزادنی۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۳ باب الْإفلاس والْإنظار، الفصل الثانی)۔ وفی المرقاۃ للقاری: من استقرض شیئًا فرد أحسن أو أکثر منہ من غیر شرطہ کان محسنًا، ویحل ذٰلک للمقروض، وقال النووی: یجوز للمقرض أخذ الزیادۃ، سواء زاد فی الصفۃ أو فی العدد ۔۔۔ وحجۃ أصحابنا عموم قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: فإن خیر الناس أحسنھم قضائً۔ وفی الحدیث دلیل علٰی أن رد الأجود فی القرض أو الدین من السُّنّۃ ومکارم الأخلاق، ولیس ھو من قرض جر منفعۃ۔ (مرقاۃ ج:۶ ص:۱۱۷، باب الْإفلاس والْإنظار، طبع رشیدیہ)۔

