قرضکےمسائل
قرضپرمنافعلیناسودہے
سوال:۔
بعض لوگ ہم سے چیزوں کے علاوہ نقد رقم ۵۰ یا ۱۰۰ روپے یا اس سے کم یا زیادہ روپے بھی اُدھار لیتے ہیں، چیزوں پر تو تقریباً ہمیں ۱۵ یا ۲۰ فیصد منافع مل جاتا ہے، لیکن نقد پیسے دینے سے ہمیں کوئی منافع نہیں ملتا، حالانکہ یہ نقد دی ہوئی رقم بھی ہمیں مہینے یا دو مہینے بعد ملتی ہے، یا اس سے بھی دیر سے ملتی ہے۔ اگر ہم اس پر کوئی منافع لیں تو کیا یہ منافع سود میں شمار ہوگا یا ہمارے لئے جائز ہوگا؟
جواب:۔
نقد رقم، اُدھار پر دینا قرضِ حسنہ کہلاتا ہے، اس پر آپ کو ثواب ملے گا۔ مگر اس پر زائد رقم منافع کے نام سے وصول کرنا سود ہے، اور یہ حلال نہیں۔(۱) مسلمان کو ہر معاملہ دُنیا کے نفع کے لئے ہی نہیں کرنا چاہئے، آخرت کے نفع کے لئے بھی تو کچھ کرنا چاہئے، سو کسی ضرورت مند کو قرضِ حسنہ دینا آخرت کا نفع ہے، اس پر بہت سا اَجر و ثواب ملتا ہے۔(۲)
والربا الذی کانت العرب تعرفہ وتفعلہ إنما کان قرض الدراھم والدنانیر إلٰی أجل بزیادۃ علٰی مقدار ما استقرض علٰی ما یتراضون بہ ولم یکونوا یعرفون البیع بالنقد ۔۔۔ ولذالک قَالَ تَعَالَىﵟ وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن رِّبٗا لِّيَرۡبُوَاْ فِيٓ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرۡبُواْ عِندَ ٱللَّهِۖ ﵞ الروم ٣٩ فأخبر ان تلک الزیادۃ المشروطۃ انما کانت ربًا فی المال العین لأنہ لَا عوض لھا من جھۃ المقرض ۔۔۔إلخ۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۱ ص:۴۶۵ باب الربا، طبع سھیل اکیڈمی)۔ أیضًا: ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ۔۔۔ فمن الربا ما ھو بیع ومنہ ما لیس ببیع وھو ربا أھل الجاھلیۃ وھو القرض المشروط فیہ الأجل وزیادۃ مال المستقرض۔ (أحکام القرآن للجصاص ص:۴۶۹، باب البیع، طبع سھیل اکیڈمی لَاھور)۔
- (۱) عن علی أمیر المؤمنین مرفوعًا: کل قرض جر منفعۃ فھو ربا۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۵۱۲، باب کل قرض جر منفعۃ فھو ربا)۔ وفی الشامیۃ: کل قرض جرّ نفعًا فھو حرام۔ (ج:۵ ص:۱۶۶)۔
- (۲) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من کان فی حاجۃ أخیہ کان اللہ فی حاجتہ ومن فرّج عن مسلم کربۃ فرّج اللہ عنہ کربۃ من کربات یوم القیامۃ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۲۲، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق، الفصل الأوّل)۔

