بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

قسطوں‌پر‌قرض‌لینا‌جائز‌نہیں

سوال:۔

میں نے چھ ماہ پہلے شدید ضرورت پڑنے پر مبلغ ۰۰۰،۱۰روپے قسطوں پر لئے تھے، اس کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے اس شخص نے مجھ سے ۵۰۰،۲روپے ایڈوانس کے طور پر لئے اور پھر ہر ماہ ۰۰۰،۱روپے لیتا رہا۔ کیا یہ رقم جو میں نے لی ہے سود کہلائے گی؟

جواب:۔

یہ سودی رقم ہے، اور آئندہ ایسی رقم لینے کی جرأت نہ کریں،(۱) اللہ تعالیٰ سے توبہ کریں کیونکہ سود کھانا اور سود دینا گناہِ کبیرہ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس پر اِعلانِ جنگ فرمایا ہے۔(۲)

  1. (۱) والربا الذی کانت العرب تعرفہ وتفعلہ إنما کان قرض الدراھم والدنانیر إلٰی أجل بزیادۃ علٰی مقدار ما استقرض علٰی ما یتراضون بہ ولم یکونوا یعرفون البیع بالنقد ۔۔۔ ولذالک قَالَ تَعَالَىﵟ وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن رِّبٗا لِّيَرۡبُوَاْ فِيٓ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرۡبُواْ عِندَ ٱللَّهِۖ ﵞ الروم ٣٩ فأخبر ان تلک الزیادۃ المشروطۃ انما کانت ربًا فی المال العین لأنہ لَا عوض لھا من جھۃ المقرض ۔۔۔إلخ۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۱ ص:۴۶۵ باب الربا، طبع سھیل اکیڈمی)۔ أیضًا: ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ۔۔۔ فمن الربا ما ھو بیع ومنہ ما لیس ببیع وھو ربا أھل الجاھلیۃ وھو القرض المشروط فیہ الأجل وزیادۃ مال المستقرض۔ (أحکام القرآن للجصاص ص:۴۶۹، باب البیع، طبع سھیل اکیڈمی لَاھور)۔
  2. (۲) ﵟ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ ﵞ البقرة ٢٧٩۔