قرضکےمسائل
قرضکیرقمسےزائدلینا
سوال:۔
کافی عرصہ پہلے میں نے اپنے والد بزرگوار سے بطور قرض دس ہزار روپے کی رقم لے کر اپنے مکان کا بقیہ حصہ تعمیر کرایا، اس خیال سے کہ اسے کرائے پر دے کر قرض بھی اُتار لوں گا اور کچھ آسرا رقم کا مجھے بھی ہوگا، اور پھر میں نے وہ مکان ۴سو روپے ماہانہ کرائے پر دے دیا۔ اور دو سو روپے ماہانہ والد صاحب کو دیتا رہا اور باقی دو سو روپے ماہانہ میں نے بینک میں جمع کئے۔ اس نیت سے کہ جمع ہونے پر ان کے دس ہزار روپے لوٹادُوں گا۔ اب قصہ مختصر یہ کہ دس ہزار روپے پورے ہونے کو ہیں تو والد صاحب کہتے ہیں کہ میرے پیسے کب دوگے؟ میں نے کہا اب تو بس تھوڑی مدّت باقی رہ گئی ہے، رقم جمع ہوجائے تو دے دیتا ہوں، تو والد صاحب بولے کہ: ’’وہ تو میری رقم سے پیدا کیا ہوا پیسہ ہے، یوں بولو کہ مجھ سے لی ہوئی رقم کب دوگے‘‘ یعنی ان کا ارادہ یہ ہے کہ جو دو سو ماہانہ وصول کیا وہ بھی، اور جو دو سو جمع کئے وہ بھی سب ان کی رقم سے پیدا ہوا۔ اس طرح ان کو مل جائے گا پندرہ ہزار روپیہ، اور اب وہ چاہتے ہیں کہ دس ہزار میرا قرض بھی دو، یعنی انہوں نے دس ہزار سے پچّیس ہزار بنالیا۔
جواب:۔
آپ جتنی رقم ادا کرچکے ہیں، ان کے قرض کا اتنا حصہ ادا ہوچکا ہے، باقی رقم ادا کردیجئے۔ ان کا صرف دس ہزار روپے قرضہ ہے، اس سے زائد لینا ان کے لئے جائز نہیں ہے۔(۱)
- (۱) القرض ھو عقد مخصوص یرد علٰی دفع مال مثلی لآخر لیرد مثلہ۔ (تنویر الأبصار مع رد المحتار ج:۵ ص:۱۶۷، فصل فی القرض)۔ کل قرض جر نفعًا فھو حرام۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۱۶۶)۔

