قرضکےمسائل
ادھیارےپرجانوردینادُرستنہیں
سوال:۔
زید نے ایک بھینس کا بچہ (بچھڑی) مثلاً پانچ ہزار میں خریدا اور خرید کر بکر کے حوالے کیا کہ وہ اسے پالے اور اس کی خدمت کرے، بکر نے اسے پالا اور اس کی خوراک کا اِنتظام کیا، ایک یا دو سال کے بعد زید بکر نے مل کر اسے دس ہزار میں بیچ دیا اور زید نے اپنی ذاتی رقم پانچ ہزار نکال کر بقیہ منافع پانچ ہزار میں سے آدھے بکر کو دئیے اور آدھے خود رکھے، کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟
جواب:۔
اس طرح ادھیارے پر جانور دینا صحیح نہیں، وہ جانور زید کی ملکیت ہے، اور پروَرِش کرنے والا اُجرت کا مستحق ہے، اگر فروخت کرنے کے بعد زائد رقم کا آدھا اس کو دے دیتا ہے، اور وہ خوشی سے قبول کرلیتا ہے تو جائز ہے۔(۱)
- (۱) وإذا دفع الرجل إلٰی رجل دابۃ لیعمل علیھا ویؤاجرھا علٰی أن ما رزق اللہ تعالٰی من شیء فھو بینھما فإن آجر العامل الدابۃ من الناس وأخذ الأجر کان الأجر کلہ لربّ الدابۃ وللعامل أجر مثل عملہٖ۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۴۴۵)۔

