بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

سونے‌کے‌قرض‌کی‌واپسی‌کس‌طرح‌ہونی‌چاہئے؟

سوال:۔

میرے ایک دوست ’’الف‘‘ نے پندرہ سال قبل یعنی ۱۹۶۹ء میں ایک شخص ’’ب‘‘ سے پندرہ تولے سونا بطور قرض لیا تھا، کیونکہ ’’ب‘‘ ایک سنار ہے، لہٰذا نقد رقم اس نے نہیں دی، ’’الف‘‘ نے وہ سونا اس وقت تقریباً ۰۰۰،۱۳ روپے میں فروخت کیا، اب پندرہ سال کے بعد ’’ب‘‘ نے (جو اس وقت ملک سے باہر چلا گیا تھا، واپسی پر) ’’الف‘‘ سے اپنا پندرہ تولے سونا واپس طلب کیا، ’’الف‘‘ نے کہا: ’’اس کو میں نے اس وقت ۰۰۰،۱۳ روپے میں فروخت کیا تھا، لہٰذا اب تم مجھ سے مبلغ۰۰۰،۱۳روپے لے لو‘‘ مگر ’’ب‘‘ کا کہنا ہے کہ مجھے یا وہ ۱۵ تولے سونا واپس کرو یا موجودہ قیمت ادا کرو۔ فقہِ حنفیہ کی روشنی میں جواب سے جلد نوازیں کہ ان دونوں میں سے حق پر کون ہے؟ ویسے اس وقت ۱۵ تولے سونے کی قیمت تقریباً۵۰۰،۲۲ روپے بنتی ہے، اُمید ہے کہ جواب سے جلد نوازیں گے۔

جواب:۔

جتنا سونا وزن کرکے لیا تھا، اتنا ہی واپس کرنا چاہئے، قیمت کا اعتبار نہیں۔(۱)

  1. (۱) استقرض من الفلوج الرائجۃ والعدالی فکسدت فعلیہ مثلھا کاسدۃ ولَا یغرم قیمتھا وکذا کل ما یکال ویوزن لما مر أنہ مضمون بمثلہٖ فلا عبرۃ بغلائہ ورخصہ۔ (در المختار مع رد المحتار ج:۵ ص:۱۶۲، باب المرابحۃ والتولیۃ، فصل فی القرض، أیضًا: عالمگیری ج:۳ ص:۲۰۴ الباب التاسع عشر فی القرض والْإستقراض)۔