قرضکےمسائل
ڈالرمیںلیاہواقرضہڈالرہیسےاداکرناہوگا
سوال:۔
میں نے ایک دوست سے ۱۹۹۰ء میں کچھ رقم اُدھار لی تھی جو کہ پاکستانی کرنسی میں نہیں تھی، بلکہ ڈالر میں تھی، جس کی واپسی کی مدّت دو سال کی تھی، مگر میں ادا نہ کرسکا، اور پھر اس سے معذرت چاہی تو اس نے کہا کہ جب آپ کے پاس ہوں دے دینا۔ جو کہ میں نے ابھی ادا کردئیے ہیں مگر ڈالر میں۔ پوچھنا یہ ہے کہ قرض کا یہ طریقہ صحیح ہے یا غلط؟
کیا ہم قرض ڈالر میں لے سکتے ہیں یا نہیں؟ پاکستانی کرنسی اور ڈالر کے فرق سے جو رقم قرض کی ادائیگی میں زیادہ یا کم دینی پڑے گی اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ جبکہ قرض نامے میں یہ تحریر ہو کہ قرض کی ادائیگی ڈالر میں ہی ہوگی کیونکہ قرض ڈالر میں ہی دیا گیا ہے۔
جواب:۔
اگر قرض ڈالر کی شکل میں لیا ہو اور ڈالر کی شکل میں دینا طے کیا ہو، تو ڈالر ہی کی شکل میں دینا ہوگا، خواہ مہنگا ہو یا سستا۔(۱)
- (۱) ولو استقرض فلوسًا نافقۃً وقبضھا ولم تکسد لکنھا رخصت أو غلت فعلیہ رد مثلہ ما قبض بلا خلاف۔ (بدائع الصنائع ج:۷ ص:۲۳۷ فصل فی حکم البیع، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

