قرضکےمسائل
دُکانکےبدلےمیںمقاطعہپردیہوئیزمینپراگرقرضوالاخریداریکادعویٰکردےتوفیصلہکیسےہوگا؟
سوال:۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ دِینِ متین اس مسئلے میں کہ زید اور عمرو کا ایک حصہ زرعی زمین پر جھگڑا ہوگیا ہے، زید کہتا ہے کہ آج سے تقریباً ۱۵ سال قبل کی بات ہے کہ عمرو کی دُکان کا میں مقروض ہوگیا، بقول عمرو کے میں ۸۰۰روپے کا مقروض ہوگیا، میں نے کہا: فی الحال میرے پاس پیسہ نہیں، میری فلاں زمین تم مقاطعہ پر لے لو، جتنے بھی تمہارے پیسے ہیں وہ تھوڑے تھوڑے کرکے وصول کرتے رہو، جب تم زمین کی آمدنی سے پیسہ وصول کرلوگے تب زمین مجھے واپس کردینا، یہ کہہ کر میں نے زمین کا قبضہ عمرو کو دے دیا۔ درمیانی عرصے میں، میں نے زمین کی واپسی کا مطالبہ کیا تو ٹال مٹول کرتا رہا۔ عمرو کہتا ہے کہ وہ مذکورہ زمین زید نے دُکان کے قرضے کے عوض ۸۰۰روپے میں مجھے بیچ دی ہے، میں نے ان سے خریدی ہے، جس کو تقریباً بیس سال ہوگئے ہیں۔ تحریری ثبوت اور گواہ کسی کے پاس بھی نہیں، ہر ایک قسم کھانے کو تیار ہے۔ لیکن زید کہتا ہے کہ مجھے عمرو کی قسم پر اِعتبار نہیں، اس نے ایک دفعہ جھوٹی قسم کھائی ہے، میرے پاس اس کا ثبوت ہے۔ اسی طرح عمرو بھی کہہ سکتا ہے کہ زید جھوٹا ہے، مجھے اس کے قسم پر اِعتبار نہیں۔ زید یہ بھی کہتا ہے کہ زمین کی آبادی سے قرضے سے جو زیادہ رقم تم نے وصول کی ہے اس کا بھی مجھے حساب دے دو۔ اب مذکورہ صورت میں کس کو سچا سمجھا جائے؟ عمرو کو اگر صحیح سمجھا جائے تو اس کے قول کے موافق ۸۰۰روپے کے عوض یہ سودا ہوگا، یا اب موجودہ ریٹ کے لحاظ سے سودا طے ہوگا؟ شرعی حکم سے واقف کیا جائے، اس جھگڑے کا شرعی فیصلہ کیا ہوگا؟ بینوا توجروا، فقہی حوالات سے جواب تحریر فرماکر ممنون فرمائیں۔
جواب:۔
دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ یہ زمین دراصل زید کی تھی، اور دونوں فریق اس پر بھی متفق ہیں کہ آٹھ سو کے بدلے میں زید کو زمین کا قبضہ دیا گیا۔
اِختلاف اس میں ہے کہ یہ قبضہ بیع کا تھا یا رہن کا؟
عمر بیع کا مدعی ہے، اور زید اس کا منکر ہے، مدعی کا فرض ہے کہ وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں گواہ پیش کرے، اور اگر پیش نہیں کرسکتا تو منکر کے حلف پر اِعتماد کیا جائے گا، اور زمین اس کے حوالے کی جائے گی، اس لئے شرعی فیصلہ زید کے حق میں جاتا ہے۔(۱)
البتہ اس میں دو چیزوں کی تفتیش فیصلے کی مدد کرے گی، ایک یہ کہ یہ معلوم کیا جائے کہ یہ جس سال کی بات ہے کیا اس وقت اتنی زمین کی قیمت آٹھ سو روپے تھی؟
دوم یہ کہ زمین کا سودا کیا جائے تو مشتری کے نام اِنتقال کرایا جاتا ہے، لیکن عمرو کے نام اس زمین کا اِنتقال کرایا گیا؟
جہاں تک زید کے قول کا تعلق ہے، عمرو کو آٹھ سو میں گروی رکھی گئی تھی، اور عمرو اس وقت سے آج تک کئی آٹھ سو کماچکا ہوگا، اس لئے رقم واپس دِلانے کا سوال نہیں، واللہ اعلم!
- (۱) البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعٰی علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۳۲۶، باب الأقضیۃ والشھادات)۔

