قرضکےمسائل
گرویرکھےگئےمکانکاکرایہلینا
سوال:۔
ایک شخص پر کسی کے مبلغ ایک لاکھ روپے بطورِ قرض واجب الادا ہیں، اس کے پاس قرض اُتارنے کی کوئی صورت نہ تھی، سوائے ایک مکان کے کہ یہ مکان گروی رکھ دیا جائے، آخرکار یہ مکان اس نے ایک شخص کو دو سال کے لئے (گروی) رہن پر دیا، اور مکان کرایہ وہ شخص ماہوار ۲۰۰۰روپے وصول کرتا رہا، اور اس طرح قرض دار نے دُوسرے شخص کا قرض اُتارا، اب اس صورت میں کیا اس مکان پر زکوٰۃ فرض ہوگی؟ کیا مکان کا اس طرح گروی رکھوانا جائز ہے؟
جواب:۔
اس مکان پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔
یہ مکان گروی رکھنا جائز ہے، اگر کوئی اور شرعی قباحت نہ ہو۔ اگر قرض دینے والے نے گروی مکان کا کرایہ اس قرض کے حساب پر کاٹا ہے تب تو صحیح ہے، ورنہ رہن سے منافع حاصل کرنا سود اور ناجائز ہے۔(۱)
- (۱) وفی الأشباہ: کل قرض جر نفعًا حرام فکرہ للمرتھن سکنی المرھونۃ بإذن الراھن۔ (در مختار ج:۵ ص:۱۶۶)۔

