بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

گروی‌رکھے‌ہوئے‌زیور‌باَمرِ‌مجبوری‌فروخت‌کرنے‌کے‌بعد‌مالک‌آگیا‌تو‌اَب‌کیا‌حکم‌ہے؟

سوال:۔

ایک خاتون نے آج سے تقریباً چار سال قبل میری والدہ مرحومہ کے پاس کچھ زیورات پانچ ہزار روپے کے عوض گروی رکھے، اور کہا کہ تین، چار ماہ میں ہی لوں گی۔ اس کے تقریباً چھ ماہ بعد میری والدہ سخت بیمار ہوئی اور تقریباً تین ماہ بیمار رہنے کے بعد اِنتقال فرماگئی۔ والدہ کے اِنتقال کے تقریباً سال بعد وہ خاتون گھر آئی، کہا کہ میں نے فلاں زیورات تمہاری والدہ کو دئیے تھے، وہ واپس کردو۔ اِتفاق کی بات ضروری کام کی وجہ سے کچھ زیورات فروخت کرنے پڑے جو ۱۹۹۲-۱۹۹۳ء میں تقریباً سات ہزار روپے کے فروخت ہوئے۔ ہم نے والدہ کے تمام زیورات ان کو دِکھائے، تاکہ وہ اپنے زیورات پہچان لیں، لیکن ان زیورات میں ان کے زیورات نہ تھے۔ ہم نے ان کو ساتھ ہزار روپے دینا چاہے تو انہوں نے نہ لئے اور کہا کہ میرے زیورات زیادہ قیمتی تھے۔ جبکہ میرے پاس وہ رسید بھی موجود ہے جن پر وہ مالیت درج ہے جس پر میں نے بیچے تھے۔

جواب:۔

اس کے زیورات بیچنے کا آپ کو حق نہیں تھا، بہرحال جو زیورات آپ نے غلطی سے بیچے ان کی رسیدیں آپ کے پاس موجود ہیں، جن سے زیورات کا وزن معلوم ہوسکتا ہے، اب اگر وہ خاتون دعویٰ کرتی ہے کہ ان کے زیورات قیمتی تھے، تو اس کا ثبوت پیش کریں کہ انہوں نے جب زیورات گروی رکھے تھے تو ان کا وزن اور نوعیت تحریر کی ہوگی، یا تو وہ اپنے دعوے کا ثبوت فراہم کریں اور اس پر دو مردوں کی، یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی پیش کریں کہ انہوں نے آپ کی والدہ کے پاس اتنے وزن اور اتنی مالیت کے زیور گروی رکھے تھے، اگر ایسا ثبوت پیش کردیں تو آپ پر اتنے زیورات کا لوٹانا لازم ہے، اور اگر وہ ثبوت پیش نہیں کرسکتیں تو آپ اس کے سامنے حلف اُٹھائیں کہ ہمارے پاس اتنے زیور تھے، اس خاتون کو چاہئے کہ حلف لینے کے بعد جھگڑا ختم کردیں۔(۱)

  1. (۱) البیّنۃ علی المدعی والیمین علی المدعٰی علیہ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۳۲۶، باب الأقضیۃ والشھادات)۔