بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

رقم‌اُدھار‌دینا‌اور‌واپس‌زیادہ‌لینا

سوال:۔

ایک صاحب کو ۱۹۵۱ء میں ۲۵ روپے اُدھار دئیے، انہوں نے ۱۹۹۳ء میں ۲۵ روپے ادا کئے، اگر وہ مجھے ۲۵ روپے ۱۹۵۱ء میں ادا کردیتے تو میں اس سے ۳ ماشے سونا خرید سکتا تھا، کیونکہ اس وقت سونا ایک سو روپے فی تولہ تھا، اب مجھے ۳ ماشے سونا خریدنے کے لئے ایک ہزار روپے چاہئیں، کیونکہ آج کل سونا ۴ہزار روپے فی تولہ ہے۔ اگر میں ان ۲۵ روپوں کا سونا خریدنے جاؤں تو دُکان دار منہ نہیں لگائے گا، بلکہ دماغ کی خرابی بتلائے گا۔ اگر میں قرض دار سے ایک ہزار روپے مانگتا تو وہ مجھے سود کھانے کا طعنہ دیتا۔ بتائیے اس قسم کے لین دین میں کیا کیا جائے کہ کسی کے ساتھ بے انصافی نہ ہو؟

جواب:۔

میں تو یہی فتویٰ دیتا ہوں کہ روپے کے بدلے روپے لئے جائیں ورنہ سود کا دروازہ کھل جائے گا، روپے قرض دیتے وقت مالیت کا تصوّر کسی کے ذہن میں نہیں ہوتا، ورنہ روپے کے بجائے سونے کا قرض لیا دیا جاتا۔ بہرحال دُوسرے اہلِ علم سے دریافت کرلیں۔(۱)

  1. (۱) الدیون تقضٰی بأمثالھا۔ (رد المحتار ج:۳ ص: ۸۴۸، مطلب الدیون تقضٰی بأمثالھا، أیضًا: الأشباہ والنظائر ص:۲۵۶، الفن الثانی)۔ رجل استقرض من آخر مبلغًا من الدراھم وتصرف بھا ثم غلا سعرھا، فھل علیہ ردھا مثلھا؟ الجواب: نعم، ولَا ینظر إلٰی غلاء الدرھم ورخصھا۔ (الفتاویٰ تنقیح الحامدیۃ ج:۱۰ ص:۲۹۴ باب القرض)۔