بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

مکان‌رہن‌رکھ‌کر‌رقم‌بطور‌قرض‌لینا

سوال:۔

بارہا سنتے آئے ہیں کہ سود لینے والا اور سود دینے والا دونوں جہنمی ہیں، اور برابر کی سزا کے مستحق بھی۔ جاننا یہ چاہتا ہوں کہ حقیقتاً دونوں ہی برابر کے سزاوار ہیں؟ جبکہ بعض اوقات انسان اپنی کسی بہت بڑی مجبوری کے باعث سود پر قرض لینے پر آمادہ ہوتا ہے، پھر سالوں اپنی تنگ دستی اور معاشی بدحالی کے باوجود سود کی رقم ادا کرتا رہتا ہے، تو کیا خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے شخص کے لئے بھی رحم کی کوئی گنجائش نہیں؟ دُنیا میں اس ذہنی اذیت کو اُٹھانے کے بعد بھی جہنم ہی اس کا مقدر ہے؟ رہن بھی سود کی ایک قسم ہے، ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ باقاعدہ سود پر قرضے فراہم کرتے ہیں اور یہی ان کا کاروبار ہے۔ انہیں پیشہ ور سودخور کہتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا کاروبار سود پر قرضے فراہم کرنا تو نہیں لیکن تعلقات کی بنا پر وہ رہن رکھ کر قرضہ دے دیتے ہیں اور پھر اس رہن سے حاصل ہونے والی رقم خود کھاتے ہیں۔ اس صورت میں بھی دونوں فریق برابر کے سزاوار ہیں؟ میں نے اشد ضرورت اور بے حد مجبوری کے باعث اپنے مکان کا ایک حصہ ایک صاحب کے پاس رہن رکھ کر اس جگہ کی مالیت کا نصف حصہ قرض وصول کیا ہے، اور اَب میں انہیں یہ رقم دیتے ہوئے خوش نہیں اور سخت معاشی بدحالی کا شکار ہوں، تو کیا اس صورت میں بھی میں برابر کا سزاوار ہوں؟ جبکہ میں رہن ادا کرتے کرتے فاقوں کی نوبت کو پہنچ گیا ہوں۔

جب سے میں نے قرض لیا ہے اور سود اَدا کر رہا ہوں میں نے محسوس کیا ہے کہ میں مالی لحاظ سے پستی میں گرتا جارہا رہوں، روپے میں برکت نہیں رہی، کاروبار خراب سے خراب تر ہوتا جارہا ہے، کیا سود دینے سے گھر کی برکات جاتی رہتی ہیں؟ اس کے علاوہ شب و روز اپنے جہنمی ہونے کا غم کھائے جارہا ہے۔

سوال:۔

میں نے ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد اپنی پنشن کی رقم اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن سے قرض حاصل کرکے ۱۲۰ گز پلاٹ پر مکان تعمیر کیا ہے۔ ۳۵ سال کرایہ کے مکان میں گزارنے کے بعد اپنا ذاتی مکان رکھنے کی دیرینہ آرزو پوری ہوئی۔ اس قرض کی ادائیگی ماہانہ قسطوں میں پندرہ سال کے عرصے میں مکمل ہوگی اور ماہانہ قسط کے لحاظ سے جو کل رقم پندرہ سال میں ادا ہوگی وہ وصول شدہ قرضے سے کم و بیش ڈیڑھ گنا زیادہ ہوگی، یعنی مبلغ ۶۵ ہزار روپے قرض کے تقریباً ۹۷ ہزار ہوجائیں گے۔ ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن ایک سرکاری ادارہ ہے اور حالیہ سرکاری پالیسی کے مطابق اب یہ ادارہ تعمیر شدہ مکان کی ملکیت میں شراکت کی بنیاد پر بلاسودی قرضہ دیتا ہے، اور پندرہ سال کے عرصے میں جو زائد رقم وصول کرتا ہے وہ غالباً اس وقت کی روپے کی قیمت کے بموجب ہے کیونکہ جدید معیشت میں افراطِ زَر کا رُجحان ایک مُسلّمہ پہلو ہے، جس کے تحت قیمتوں میں عدم استحکام ایک عالمگیر مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے ہمارے روپے کی قیمت کم ہوتی جاتی ہے اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ مثلاً: آج سے ۱۵ سال یعنی ۱۹۶۸ء کے اقتصادی حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں تمام اشیاء کی قیمتوں میں آج کی نسبت زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا، ایسی صورت میں اس زائد رقم کو پندرہ سال بعد کی قیمت کے بموجب منافع شمار کرنے کے بجائے ’’سود‘‘ گرداننا کہاں تک صحیح ہے؟ لیکن میں نے جب قرضے کے اس مسئلے کو ہمارے ایک کرم فرما مولوی صاحب (جو ایک مستند عالمِ دِین ہیں) کے سامنے رکھا تو انہوں نے بلاتوقف فرمایا کہ: ’’آپ نے سودی قرض لے کر گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے، اور یہ کہ آپ اپنے پنشن کے پیسے سے جتنا اور جیسا بھی مکان بنتا، بنالیتے اور گزارہ کرتے، محض بچوں کی خاطر یہ قرض لے کر جہنم نہ خریدتے۔‘‘ تو جناب سے دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ

الف:۔آیا ملکیت میں شراکت کی بنیاد پر بلاسودی قرضہ لے کر میں گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوا ہوں؟

ب:۔آیا اپنے بچوں کو ایک صاف ستھرا مکان اور ماحول مہیا کرنے کی کوشش کرنا ایک مسلمان کے لئے ممنوع ہے؟ اور کیا محض محدود وسائل کی بنا پر اسے اپنے اَبتر حالات پر صابر و شاکر ہوکر بیٹھ رہنا چاہئے اور اپنا معیارِ زندگی جائز ذرائع سے بہتر کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے؟

ج:۔آیا متذکرہ بالا صورت کے باوجود بھی فنانس کارپوریشن کا یہ قرض سودی قرض ہی شمار ہوگا اور اس سے مکان بنانا ایک مسلمان کے لئے حرام ٹھہرے گا؟

جواب:۔

سود دینا اور لینا دونوں حرام ہیں،(۱) اور رہن کی جو صورت آپ نے لکھی ہے وہ بھی حرام ہے۔(۲) آپ نے سود پر قرض لے کر غضبِ الٰہی کو دعوت دی ہے، اب اس کا علاج سوائے توبہ و اِستغفار کے کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ مکان کا کچھ حصہ فروخت کرکے آپ سود و قرض سے نجات حاصل کرلیں؟

جواب:۔

جی ہاں! یہ قرض بھی سودی قرض ہی ہے۔ بہرحال آپ لے چکے ہیں تو اَب خدا تعالیٰ کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے توبہ و اِستغفار کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں۔ تأویلات کے ذریعہ چیز کی حقیقت نہیں بدلتی، نہ کسی حرام کو حلال کیا جاسکتا ہے، کیونکہ معاملہ کسی بندے کے ساتھ نہیں، خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے، اور خدا تعالیٰ کے سامنے غلط تأویلیں نہیں چلیں گی، بلکہ جرم کی سنگینی میں اور بھی اضافہ کریں گی۔(۳)

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞالبقرة ٢٧٥ ۔ قَالَ تَعَالَىﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ﵞ البقرة ٢٧٨ﵟ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ ﵞ البقرة ٢٧٩۔وفی الحدیث: عن جابر رضی اللہ عنہ قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ، وقال ھم سواء۔ (مشکٰوۃ، باب الربا ص:۲۴۴ طبع قدیمی)۔
  2. (۲) قال الحصکفی: (لَا إنتفاع بہ مطلقًا) لَا بإستخدام ولَا سکنٰی ولَا لبس ولَا إجارۃ ولَا اعارۃ سواء کان من مرتھن أو راھنٍ۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۶ ص:۴۸۲، کتاب الرھن)۔
  3. (۳) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ البقرة ٢٧٥۔ عن علی أمیر المؤمنین مرفوعًا: کل قرض جر منفعۃ فھو ربا۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۵۱۲ باب کل قرض جر منفعۃ فھو ربا، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔ وقال الحصکفی رحمہ اللہ: وفی الأشباہ کل قرض جرّ نفعًا فھو حرام۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۱۶۶، طبع سعید)۔