قسطوںکاکاروبار
قسطوںپرگھریلوسامانکیتجارت
سوال:۔
ہمارا قسطوں کا کاروبار ہے، اور ہم گھریلو اشیاء اور دیگر اَشیائے ضرورت آسان قسطوں پر لوگوں کو مہیا کرتے ہیں۔ جس کا طریقِ کار یہ ہے کہ ہم نے ایک پنکھا ۱۴۰۰روپے میں خریدا اور گاہک کو یہ پنکھا ایک سال کی قسطوں پر ۲۲۰۰روپے میں فروخت کیا، اور ایڈوانس ۵۰۰روپے اور ماہوار قسط ۲۰۰روپے لیتے ہیں۔ اور اگر یہ شخص بقایا رقم ایک سال میں نہ دے سکے اور رقم پر تقریباً ایک سال سے زیادہ ہوجائے، مثلاً ۲ یا ۳ سال ہوجائیں تو ہم اپنی اصل رقم ہی وصول کرتے ہیں جو کہ طے ہوئی تھی اور اس پر مزید کوئی کمیشن وغیرہ نہیں لیتے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح قسطوں پر کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر جواز کا کوئی دُوسرا طریقہ ہو تو تحریر فرمادیں۔
جواب:۔
قسطوں کا جو طریقہ آپ نے لکھا ہے، یعنی جتنی قیمت پہلے دِن طے ہوگئی اتنی ہی وصول کرتے ہیں، اور اگر فرض کردہ وہ وقت پر ادا نہیں کرتا تو زائد رقم وصول نہیں کرتے، تو قسطوں کا یہ کاروبار صحیح ہے۔(۱)
- (۱) البیع مع تأجیل الثمن وتقسیطہ صحیح، یلزم أن تکون المدۃ معلومۃ فی البیع بالتأجیل والتقسیط۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ص:۱۲۵، رقم المادّۃ:۲۴۵، ۲۴۶، طبع حبیبیہ کوئٹہ)۔

