قسطوںکاکاروبار
قسطوںپرگھریلوساماناسشرطپرفروختکرناکہوقتمقرّرہپرقسطادانہکیتویومیہجرمانہہوگا،نیزوصولیکےلئےجانےکاکرایہوصولکرنا
سوال:۔
میں آسان اقساط (ماہوار) پر گھریلو سامان فراہم کرتا ہوں، ضرورت مند باہمی رضامندی سے اپنی مطلوبہ اشیاء چیک کرکے قیمت واَقساط مقرّرہ وقت پر دینے کی شرط رضامندی سے طے کرتے ہیں، جو کہ ایگریمنٹ کی شکل میں ہوتا ہے، لکن اس میں یہ شرط بھی ہوتی ہے کہ اگر خریدار مقرّرہ وقت میں ادائیگی نہ کرے گا تو یومیہ، ماہوار جرمانے کے ساتھ رقم ادا کرے گا، اگر خریدار کے پاس وصولی کرنے ہم موٹرسائیکل یا سواری پر جائیں تو اس کے اِخراجات بھی خریدار سے لیتے ہیں، اسلامی تعلیمات کی رُو سے یہ طریقہ صحیح ہے یا نہیں؟ مہربانی فرماکر ہماری رہنمائی فرمائیں۔
جواب:۔
قسطوں پر گھروں میں مال سپلائی کرنا اور مقرّرہ وقت پر وصول کرنا جائز ہے، لیکن اس میں جو یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ اگر رقم وقت پر نہیں ادا کی تو یومیہ اتنے پیسے بڑھتے رہیں گے، یہ صریح ناجائز ہے، اور اس کی وجہ سے یہ پورا کاروبار ناجائز ہوجاتا ہے۔ اسی طرح موٹرسائیکل کی اُجرت وصول کرنا یہ بھی ناجائز ہے۔(۱)
- (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ البقرة ٢٧٥لما روی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ نھی عن قرض جرّ نفعًا۔ (بدائع الصنائع، کتاب القرض ج:۱۰ ص:۵۹۷)۔ کل قرض جرّ نفعًا فھو ربا۔ (الأشباہ والنظائر ص:۲۵۷)۔ أیضًا: مالک عن زید بن أسلم أنہ قال: کان الربا فی الجاھلیۃ أن یکون للرجل علی الرجل الحق إلٰی أجل فإذا حل الحق قال أتقضی أم تربی فإن قضی أخذ وإلّا زادہ فی حقہ وأخّر عنہ فی الأجل۔ (مؤطا الْإمام مالک ص:۶۰۶ باب ما جاء فی الربا فی الدین، طبع میر محمد)۔ أیضًا: کان الرجل فی الجاھلیۃ إذا کان لہ علی إنسان مأۃ درھم إلی الأجل فإذا جاء الأجل ولم یکن المدیون واجدًا لذالک المال قال: زدنی فی المال حتّٰی أزید فی الأجل، فربما جعلہ مأتین۔ (تفسیر کبیر ج:۹ ص:۲، سورۃ آل عمران:۱۳۰)۔

