بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قسطوں‌کا‌کاروبار

قسطوں‌کا‌مسئلہ

سوال:۔

’’الف‘‘ ایک عدد سوزوکی، ویگن، بس یا ٹرک نقد رقم ادا کرکے خرید لیتا ہے، اس کے پاس ’’ب‘‘ اس گاڑی کی خریداری کے لئے آتا ہے، ’’ب‘‘ یہ گاڑی ’’الف‘‘ سے قسطوں میں خریدنا چاہتا ہے، جس کے لئے ’’الف‘‘ ’’ب‘‘ سے مندرجہ ذیل شرائط کا طلب گار ہوتا ہے:

۱:۔ ۱۰ ہزار روپیہ نقد لوں گا، (یہ مختلف گاڑیوں کی قیمت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے)، بقایا رقم دو ہزار روپے ماہوار قسطوں میں لوں گا۔ گاڑی کی اصل منڈی کی قیمت ۴۵ ہزار روپے ہے، میں دس ہزار منافع لوں گا، یعنی ’’ب‘‘ نے ۴۵ ہزار روپے کے بجائے ۵۵ہزار روپے ادا کرنا ہیں (دس ہزار نقد دینے کے علاوہ قسطوں میں ۴۵ ہزار روپے ادا کرے گا)، اس صورت میں منافع جو کہ ۱۰ ہزار روپے ہے، اس میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے، مثلاً: نقد رقم ۱۵ ہزار دی جائے یا قسط فی ماہ کے حساب سے دو ہزار روپے بڑھا یا گھٹادی جائے۔

۲:۔ گاڑی خواہ جل جائے، چوری ہوجائے، ’’ب‘‘ نے ہر حالت میں یہ رقم تمام کی تمام ادا کرنی ہے۔

۳:۔ اگر ’’ب‘‘ کسی وجہ سے تین ماہ لگاتار قسطیں ادا نہ کرسکا تو ’’الف‘‘ کو حق حاصل ہے کہ وہ گاڑی اپنے قبضے میں لے لے اور ’’ب‘‘ کو کچھ بھی نہ ادا کرے۔

بعض وقت یہ صورت بھی ہوجاتی ہے کہ ’’ب‘‘ کو رقم کی ضرورت ہوتی ہے، وہ گاڑی نقد میں فروخت کردیتا ہے اور ’’الف‘‘ کو ماہوار قسط ادا کرتا رہتا ہے۔ بعض حالات میں گاڑی موجود نہیں ہوتی اور ’’الف‘‘، ’’ب‘‘ سے کچھ رقم نقد لے لیتا ہے اور وہ رقم اپنی رقم میں شامل کرکے ’’ب‘‘ کو گاڑی دیتا ہے، یا نقد رقم دے دیتا ہے، اور ’’ب‘‘ گاڑی خرید لیتا ہے (مثلاً: ۴۵ ہزار روپے کی گاڑی کے لئے ۳۵ ہزار روپے ’’الف‘‘ دے دیتا ہے، اور ۱۰ ہزار روپے ’’ب‘‘ اپنی طرف سے ڈالتا ہے)۔

مولانا صاحب! کئی احباب اس کاروبار میں لگے ہوئے ہیں، قسطوں کی صورت میں مہنگا بیچنا کیا یہ سود تو نہیں ہے؟

جواب:۔

یہاں چند مسائل ہیں:

۱:۔ نقد چیز کم قیمت خرید کر آگے اس کو زیادہ داموں پر قسطوں پر دینا جائز ہے۔(۱)

۲:۔ جس شخص نے قسطوں پر وہ چیز خرید لی، وہ اس کا مالک ہوگیا، اور قسطوں کی رقم اس کے ذمہ واجب الادا ہوگئی، اس لئے اگر وہ چاہے تو اس چیز کو آگے فروخت کرسکتا ہے، نقد قیمت پر بھی اور اُدھار پر بھی۔

۳:۔ قسطوں پر خرید لینے کے بعد اگر خدانخواستہ گاڑی کا نقصان ہوجائے تو یہ نقصان خریدار کا ہوگا، قسطوں کی رقم اس کے ذمہ بدستور واجب الادا رہے گی۔(۲)

۴:۔ یہ شرط کہ: ’’اگر کسی وجہ سے وہ تین ماہ کی قسطیں ادا نہ کرسکا تو ’’الف‘‘ گاڑی اپنے قبضے میں لے لے گا، اور اس کی ادا شدہ قسطیں سوختہ ہوجائیں گی‘‘ یہ شرط شرعاً غلط ہے۔(۳) ’’الف‘‘ کو یہ تو حق ہے کہ اپنی قسطیں قانونی ذرائع سے وصول کرلے، لیکن وہ گاڑی کو اپنے قبضے میں لینے کا مجاز نہیں اور نہ ادا شدہ قسطوں کو ہضم کرنے کا مجاز ہے۔(۴)

۵:۔ ’’الف‘‘، ’’ب‘‘ سے جو رقم پیشگی لے لیتا ہے، وہ جائز ہے، واللہ اعلم!

  1. (۱) نھٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیعتین فی بیعۃ ۔۔۔ وقد فسّر بعض أھل العلم قالوا: بیعتین فی بیعۃ أن یقول أبیعک ھٰذا الثوب بنقد بعشرۃ، وبنسیئۃ بعشرین، ولَا یفارقہ علٰی أحد البیعین، فإن فارقہ فلا بأس بہ إذا کانت العقدۃ علٰی أحدھ منھما۔ (جامع الترمذی ج:۱ ص:۲۳۳ کتاب البیوع، باب ما جاء فی النھی عن بیعتین فی بیعۃ)۔ وفی الھدایۃ: لأن للأجل شبھًا بالمبیع، ألَا یری أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل۔ (الھدایۃ ج:۳ ص:۷۶ باب المرابحۃ والتولیۃ، ومثلہ فی البحر الرائق ج:۶ ص:۱۱۴ باب المرابحۃ والتولیۃ، والشامیۃ ج:۴ ص:۱۷۴، طبع ایچ ایم سعید)۔
  2. (۲) فإن ھلک فی یدہ ھلک بالثمن وکذا إذا دخلہ عیب۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۳۱، کتاب البیوع)۔
  3. (۳) وکل شرط لَا یقتضیہ العقد وفیہ منفعۃ لأحد المتعاقدین أو للمعقود علیہ وھو من أھل الْإستحقاق یفسدہ کشرط أن لَا یبیع المشتری العبد المشتری لأن فیہ زیادۃ عاریۃ عن العوض فیؤدیٰ إلی الربا۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۵۹، کتاب البیوع)۔
  4. (۴) قَالَ تَعَالَىﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ ﵞ النساء ٢٩