بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قسطوں‌کا‌کاروبار

قسط‌رُکنے‌پر‌قسط‌پر‌دی‌ہوئی‌چیز‌واپس‌لے‌لینا‌جائز‌نہیں

سوال:۔

میری بیوی میرے بیٹے کو اس کی مرضی کے مطابق قسطوں پر سامان فروخت کرنے کی دُکان کھلوانے کے حق میں ہیں، جبکہ میں اس کاروبار کے خلاف ہوں، کیونکہ اس کاروبار میں زبانی طور پر گاہک سے کہا جاتا ہے کہ یہ چیز تم کو قسطوں پر دی جاتی ہے تاکہ تم کو فائدہ پہنچے اور تم آسانی سے ایک بڑی چیز کے مالک بن جاؤ، اور کاغذات میں کرایہ دار لکھا جاتا ہے۔ قسطیں رُکنے کی صورت میں چیز واپس لے لی جاتی ہے۔ میری بیوی کا کہنا ہے کہ جب بہت سے لوگ اس کاروبار کو کر رہے ہیں تو پھر مولانا صاحب سے دریافت کیوں کرتے ہو؟ ملک میں اسلامی شریعت کا نفاذ ہوچکا ہے، میرا خیال ہے کہ خریدی ہوئی چیز نقص کی بنا پر تو واپس ہوسکتی ہے، مگر فروخت کی ہوئی چیز واپس نہیں ہوتی، واجبات کی ادائیگی کے لئے مہلت دی جاتی ہے۔ اس مسئلے میں آپ کی رائے اسلامی شریعت کے مطابق کیا ہے؟

جواب:۔

قسطوں پر چیز دینا تو جائز ہے،(۱) مگر اس میں یہ دو خرابیاں جو آپ نے لکھی ہیں، قابلِ اصلاح ہیں۔ ایک خریدار کو ’’کرایہ دار‘‘ لکھنا، دُوسرا قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں چیز واپس کرلینا۔ یہ دونوں باتیں شرعاً جائز نہیں۔(۲) اس کے بجائے کوئی ایسا طریقۂ کار تجویز کیا جانا چاہئے کہ قسطوں کی ادائیگی کی بھی ضمانت مل سکے اور شریعت کے خلاف بھی نہ ہو۔

  1. (۱) البیع مع تأجیل الثمن، وتقسیطہ صحیح، یلزم أن تکون المدّۃ معلومۃ فی البیع بالتأجیل والتقسیط۔ (شرح المجلۃ للباز ص:۱۲۵ المادّۃ:۲۴۵، ۲۴۶)۔ أیضًا: أما الأئمۃ الأربعۃ وجمھور الفقھاء والمحدثین، فقد أجازوا البیع المؤجل بأکثر من سعر النقد، بشرط أن یبتّ العاقدان بأنہ بیع مؤجل بأجل معلوم وبثمن متفق علیہ عند العقد۔ (بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ ص:۷ طبع مکتبہ دارالعلوم کراچی)۔
  2. (۲) لأن فی الشرط الأوّل کذب وعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من الکبائر کما روی عن أنس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الکبائر قال: الشرک باللہ وعقوق الوالدین وقتل النفس وقول الزور۔ (ترمذی ج:۱ ص:۲۲۹)۔ وکل شرط لَا یقتضیہ العقد وفیہ منفعۃ لأحد المتعاقدین أو للمعقود علیہ وھو من أھل الْإستحقاق یفسدہ کشرط أن لَا یبیع المشتری العبد المبیع لأنہ فیہ زیادۃ عاریۃ عن العوض فیؤدیٰ إلی الربا۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۵۹، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد)۔ وقالت عائشۃ ۔۔۔ ثم قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الناس فحمد اللہ وأثنٰی علیہ ثم قال: أما بعد! ما بال رجال یشترطون شروطًا لیست فی کتاب اللہ؟ ما کان من شرط لیس فی کتاب اللہ فھو باطل، وإن کان مائۃ شرط قضاء اللہ أحق وشرط اللہ أوثق وإنما الولَاء لمن اعتق۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۲۹۰)۔