قسطوںکاکاروبار
قسطوںکےکاروبارکےجوازپرعلمیبحث
سوال:۔
روزنامہ ’’جنگ‘‘ کی خصوصی اشاعت بعنوان ’’اسلامی صفحہ‘‘ میں دِلچسپی اور اشتیاق نے آنجناب کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ کئی بار قارئین نے ’’قسطوں کے کاروبار‘‘ کے سلسلے میں آپ سے جواز اور عدمِ جواز کے بارے میں دریافت فرمایا اور آپ نے بالاختصار اس طرح جواب سے نوازا کہ علماء اور فقہاء نے قسطوں کے کاروبار کو، یعنی نقد قیمت کے مقابلے میں اُدھار کی اضافہ شدہ قیمت کو جائز قرار دیا ہے، اور اگر کوئی شرطِ فاسد معاملۂ ’’شراء بالتَّقسیط‘‘ سے وابستہ ہو تو وہ کالعدم ہوجائے گی اور یہ معاملہ (شراء بالتَّقسیط) دُرست ہے، اور آخر میں’’وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ‘‘ کے الفاظ مرقوم ہوتے ہیں، جس سے شاید کسی قدر شک وشبہ کی طرف اِشارہ مقصود ہوتا ہے، یا کم از کم ورع و تقویٰ کی علامت ہے۔
اس سلسلے میں چند معروضات حسبِ ذیل ہیں:
اِصطلاحاً:۔ جسے عربوں میں (شراء بالتَّقسیط)اور پاکستان میں’’بیع بالاجارہ‘‘ کہتے ہیں، اور اس معاملے میں بیع کے مختلف اسماء، مختلف ممالک میں متعارف ہیں، جیسے برطانیہ میں ’’ہائرپرچیز‘‘ (Hirepurchase)، ریاست ہائے متحدہ امریکا میں ’’انسٹالمنٹ کریڈٹ‘‘ (Instalment Credit)، ’’انسٹالمنٹ بائنگ‘‘ (Instalment Buying)، فروخت کی یہ شکلیں بالعموم صرفی قرض (Consumer Credit) کے لئے اختیار کی جاتی ہیں۔
پسِ منظر اور ابتدا:۔ مختلف دائرۃ المعارف و موسوعہ (Encyclopedia) میں مرقوم ہے کہ (شراء بالتَّقسیط)کا پسِ منظر گھریلو، دیرپا اور گراںقدر اشیاء کی فراہمی کی ایک معاشی تدبیر ہے، اور ان اشیاء کے حصول کا ایک سہل ذریعہ۔ اس کی ابتدا اُنیسویں صدی کے وسط میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہوئی جبکہ ایک سلائی مشین کمپنی نے اپنی تیارکردہ سلائی مشین کو اپنے صارفین کے لئے اس کی قیمت کو بالاقساط، قسط وار ادائیگی کی صورت میں متعارف کرایا، جس کو دیگر کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی کھپت قابلِ عمل اور منافع بخش تصوّر کرتے ہوئے نہ صرف اپنایا بلکہ دن دُگنا اور رات چوگنا منافع کمانے کا کامیاب کاروباری وسیلہ بنالیا۔
تعریف اور نوعیت:
الف:۔ بیع بالاجارہ: یہ ایک قسم کا اجارہ (معاہدہ کرایہ داری) ہے، جس کی رُو سے کرایہ دار مقرّرہ رقم بالاقساط ادا کرتا ہے اور معاہدہ کے تحت حاصل کردہ اختیارِ خریداری کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے۔ اس معاہدے میں خریدار کی حیثیت معاملۂ بیع کے خریدار کی نہیں ہوتی، جس میں خریدار کسی شے کو بالفعل خریدتا ہے یا خریداری کی بابت ناقابلِ تنسیخ رضامندی کا اظہار کرتا ہے، اس معاہدے کے تحت خریدار اس وقت تک مالک قرار نہیں پاتا جب تک کہ وہ ساری طے شدہ اقساط ادا نہ کردے۔
ب:۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک بیع بالاجارہ صارف کے لئے ایک قسم کے قرض کی فراہمی ہے، یعنی صارف کے نقطۂ نظر سے معاہدۂ اِستقراض ہے۔ جس کے تحت خریدار سامان کی قیمت کا کچھ حصہ پیشگی ادا کرتا ہے جسے ’’ڈاؤن پیمنٹ‘‘ کہتے ہیں، اور بقیہ واجب الادا رقم (جس میں فروخت کنندہ اپنا نفع بھی شامل کرتا ہے) قسط وار ادا کرنے پر رضامندی کا اظہار کرتا ہے، جبکہ عموماً اقساط کی ادائیگی کی مدّت چھ ماہ یا دو سال یا زائد ہوتی ہے، یہ تعریف ’’شراء بالتَّقسیط‘‘ (قسطوں کے کاروبار) سے قریب تر ہے۔
نوعیت اور ماہیت:۔ بیع بالاجارہ یا شراء بالتَّقسیط معاملۂ بیع کی ایک امتیازی قسم ہے، جس میں قیمتِ خرید بالاقساط ادا کی جاتی ہے، اور حقِ تملیک خریدار کو منتقل نہیں ہوتا جبکہ خریدار کو صرف قبضہ اور حقِ استعمال تفویض کیا جاتا ہے۔
طلب اور رغبت:۔ نسبتاً گراںقدر اشیاء کی خریداری عامۃ الناس کے لئے ہمیشہ سے مشکل کا باعث بنی رہی ہے، اس لئے کہ ان اشیاء کی قیمت کی یکمشت ادائیگی ہر شخص کے لئے آسان نہیں ہوتی، بلکہ اکثر کے لئے ناممکن ہوتی ہے، البتہ قسطوں میں ادائیگی مہنگے سامان کو ممکن الحصول بنادیتی ہے، مثال کے طور پر ایسے سامان کی فہرست درج ذیل ہے:
الف:۔ کاریں اور کم وزن اُٹھانے والے ٹرک اور بسیں (نئی اور پُرانی)۔
ب:۔ موٹر سائیکلیں۔
ج:۔ ٹیلی ویژن سیٹ اور ٹیپ ریکارڈر وغیرہ۔
د:۔ فرنیچر اور دیگر آرائشی سامان۔
ہ:۔ ریفریجریٹر اور عید و بیاہ شادی کے اخراجات و مصارف۔
و:۔ دیگر متفرقات۔
معاشی اہمیت:۔ معاشی نقطۂ نظر سے اس طریقۂ کار سے صارفین وہ تمام اشیاء حاصل کرلیتے ہیں جن کو وہ بعد از ادائیگی ایک طویل عرصے تک زیر استعمال رکھتے ہیں، اگر یہ طریقہ اختیار نہ کیا جائے تو صارف ہمیشہ کے لئے ان اشیاء سے محروم رہیں، ان اشیاء کی موجودگی سے نہ صرف گھریلو مقبوضات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اثاثہ اور زیبائش کی منہ بولتی تصویر ثابت ہوتی ہیں۔
معاہدہ بیع بالاجارہ کا ڈھانچہ:۔ فریقین معاہدے کے اسماء مع ولدیت، پتاجات، دستخط اور شاہدین کے اسماء و پتاجات کے علاوہ اشیاء کی قدر و مالیت، تفصیل و تشخیص، قسط وار ادائیگی کی شرح مع شرح قسط، قسط کی عدم ادائیگی کی صورت میں فریقین معاہدے کے اختیارات و فرائض وغیرہ شامل ہوتے ہیں، اور سب سے اہم بات ’’کم از کم ادائیگی کی مد‘‘ قابلِ ذکر ہے، جس کی رُو سے خریدار کو تہائی یا چوتھائی رقم پیشگی ادا کرنا پڑتی ہے، مزید برآں دورانِ معاہدہ خریدار نہ کسی شے کی فروخت کرسکتا ہے، نہ ہی رہن رکھ سکتا ہے اور نہ اس پر کسی قسم کا بار ڈال سکتا ہے، حتیٰ کہ وہ کوئی ایسا عمل روا نہیں رکھ سکتا جو بائع کے حقِ ملکیت کے لئے مضرّت رساں ہو۔ غرضیکہ معاہدے میں تمام شرائط اس اَمر کی داعی و متقاضی ہوتی ہیں کہ بائع (بیچنے والے) کے مفاد کو تحفظ فراہم ہو۔
تنقید:۔ اس قسم کی بیع پر بالعموم ان الفاظ میں تنقید کی گئی ہے جو کہ حسبِ ذیل ہے:
الف:۔ عوام الناس کو اپنے جائز ذرائع آمدنی سے کہیں بالائی سطح پر معیارِ زندگی بحال کرنے پر اُکساتی ہے اور یہ ان کو شدید رغبت دِلاتی ہے کہ ان اشیاء سے اپنے گھروں کو مزین کرلیں جن کی ان کی موجودہ آمدنی سرِدست متحمل نہیں ہوسکتی، مزید اس سے متعلق جتنے قوانین مغربی دُنیا میں اور ہمارے ہاں رائج اور نافذ ہیں وہ سرمایہ کار کمپنیوں کو معتد بہ تحفظات و مراعات فراہم کرتے ہیں اور رغبت اور بلند زندگی کی ہوس میں گرفتار بے چارہ صارف قانونی چارہ جوئی سے محروم رہتا ہے۔
ب:۔ یہ خاص قسم کی بیع (خرید و فروخت) معاشرے میں معاشی استحکام کو مخدوش بنادیتی ہے، اور افراطِ زَر کے لئے ایک مؤثر محرک ثابت ہوتی ہے۔
ج:۔ اصلیت و ماہیت کے اعتبار سے مقرّرہ شرحِ نفع مروّجہ شرحِ سود سے نہ صرف مماثلت رکھتی ہے، بلکہ سودی شرح سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور یہ شرحِ منافع صارف کے استحصال کے لئے مثالی کردار ادا کرتی ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا مذکورہ بالا شراء بالتَّقسیط اسلام میں جائز ہے؟ جبکہ اس کی نوعیت اور ماہیت مع شروطِ فاسدہ حسبِ ذیل ہے:
شراء بالتَّقسیط اصلیت و نوعیت کے اعتبار سے ثنائی الوظیفہ اور ینفع لغرضین قرار پائی، کیونکہ اس میں بیع و اجارہ کا باہم دگر اختلاط ہے، بلکہ معاملتین، صفقتین و بیعتین کا انضمام و ادغام ہے، جیسا کہ اس کی تعریف سے اس امر کی تصریح ہوتی ہے، لہٰذا یہ ثنویب تشریح اسلامی میں احسن نہیں ہے، اور دو معاملوں کا معاملہ واحدہ میں مجتمع ہونا اصحیت سے متغائر ہے، بلکہ بعض صورتوں میں شراء بالتَّقسیط اجتماع المعاملتین تک محدود نہیں رہتی بلکہ اجتماع المعاملات کے قالب میں سمو جاتی ہے، جیسے بیع، اِجارہ، کفالت، ضمان اور بیمہ وغیرہ کا اجتماع۔
نصوصِ شرعیہ:۔شراء بالتَّقسیط کے سلسلے میں نصوصِ شرعیہ برائے ملاحظہ و غور و خوض حسبِ ذیل ہیں، جیسے:
اوّلاً:۔ اُجرت اور ضمانت ایک ہی جگہ مجتمع نہیں ہوسکتی۔ (دفعہ:۸۶، مجلۃ الاحکام العدلیہ)
ثَانِیًا:۔ بَیْعُ الدَّیْنِ، وَہُوَ مَا کَانَ الثَّمَنُ وَالْمُثَمَّنُ فِیْہِ مُؤَجَّلَیْنِ مَعًا وَہُوَ بَیْعٌ مَّنْہِیٌّ عَنْہُ۔ (اَلْقِسْمُ الْاَوَّلُ فِی الْمُعَامَلَاتِ الْمَادِّیَّةِ، تَاْلِیْفُ: اَلسَّیِّدِ عَلِی فِکْرِی ص:۱۹)
ثَالِثًا:۔ بَیْعَتَانِ فِیْ بَیْعَةٍ الْمَنْہِیُّ عَنْہُ قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: صَفْقَتَانِ فِیْ صَفْقَةٍ، وَلِاَنَّہٗ شَرْطُ عَقْدٍ فِیْ عَقْدٍ فَلَمْ یَصِحَّ۔ (اَلْقِسْمُ الْاَوَّلُ فِی الْمُعَامَلَاتِ الْمَادِّیَّةِ، تَاْلِیْفُ: اَلسَّیِّدِ عَلِی فِکْرِی ص:۴۵)
شروطِ فاسدہ:
۱:۔ اِجارہ کام معاملہ مستقبل کی خریداری سے مشروط ہوتا ہے، اور یہ شرط تقضی الی المنازعۃ کو بروئے کار لاتی ہے۔
۲:۔ خریدار / مشتری کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دانستہ اور نادانستہ طور پر اس میں (خریدی ہوئی چیز میں) کسی قسم کا عیب نہ آنے دے، جو کہ معاہدہ میں "Fault Clause" کہلاتی ہے۔
۳:۔ مستعدی سے مرمت کروانا اور حسبِ ضرورت نئے پرزہ جات کی بطریقِ احسن تبدیلی تاکہ اس کی عرفی قدر میں کمی واقع نہ ہو۔
۴:۔ انشورنس و بیمہ کرانا لازمی ہوتا ہے۔
۵:۔ تیسرے شخص کی ضمانت / کفالت کلی کا وجود، اور
۶:۔ مجبوریوں اور کسمپرسی کی صورت میں اگر خریدار کسی واجب الادا قسط کی ادائیگی میں کوتاہی برتے، تو قرقی کا حق یعنی بائع بلامداخلت خریدار فروخت شدہ شے کی بازیابی کا مطالبہ کرسکتا ہے۔
۷:۔ شرحِ نفع کے تعین میں من مانی کا عنصر غالب ہوتا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ بفرضِ محال یہ سرمایہ کار کمپنیاں اور مالیاتی ادارے ان شروطِ فاسدہ میں کسی قسم کی تحریف کی خدمت سر انجام دے بھی لیں، یا کم از کم ان کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی خاطر ان کا رُخ موڑ لیں یا پہلو بدل لیں تب بھی مستہلک (صارف) کے استحصال کے لئے ان کی یہ کاوش اور سعی رُکاوٹ ثابت نہ ہوگی۔ علاوہ ازیں اگر اسلامی تعلیمات ان نیم تعیشاتی سامان کے استعمال کو صراحتاً ناجائز قرار نہیں دیتیں تب بھی معاشیاتِ اسلام اس قسم کی بیعات کو رواج دینا پسند نہیں کرتی، اور اس کی نظر میں یہ اچھوتا اور انوکھا قسم کا استحصالِ صارف، مستحسن نہیں قرار پاتا۔
آنجناب کی خدمتِ اقدس میں قسطوں کے کاروبار کے سلسلے میں مندرجہ بالا معروضات ارسالِ خدمت ہیں، التماس ہے کہ قرآنِ حکیم، سنتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم، فقہ و فتاویٰ اور اَئمہ و فقہاء کی آراء و تصریحات کی روشنی میں مفصل جواب سے نوازیں۔
جواب:۔
ماشاء اللہ! آپ نے خوب تفصیل سے بیع بالاقساط کے بارے میں معلومات جمع کی ہیں، جزاکم اللہ احسن الجزاء۔ تاہم جو مسئلہ میں نے بالاختصار کہا تھا وہ اس تفصیل کے بعد بھی اپنی جگہ صحیح اور دُرست ہے، یعنی: ’’قسطوں پر خرید و فروخت جائز ہے،(۱) بشرطیکہ اس میں کوئی شرطِ فاسد نہ ہو، اگر کوئی شرطِ فاسد لگائی گئی تو یہ معاملہ فاسد ہوگا۔‘‘(۲)
مثلاً: یہ شرط کہ جب تک خریدار تمام قسطیں ادا نہ کردے وہ اس چیز کا مالک نہیں ہوگا، یہ شرط فاسد ہے، بیع کے صحیح ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مشتری کو مالکانہ قبضہ دیا جائے، خواہ قیمت نقد ادا کی گئی ہو یا اُدھار ہو، اور اُدھار کی صورت میں یکمشت ادا کرنے کا معاہدہ ہو یا بالاقساط، ہر صورت میں مشتری کا قبضہ مالکانہ قبضہ تصوّر ہوگا،(۳) اور اس کے خلاف کی شرط لگانے سے معاملہ فاسد ہوجائے گا۔(۴) یہیں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اس معاملے کو بیع اور اِجارہ سے مرکب کرنا غلط ہے، البتہ اُدھار رقم کی وصولی کے لئے ضمانت طلب کرنے کی شرط صحیح ہے۔(۵) اور یہ شرط بھی صحیح ہے کہ اگر مقرّرہ وقت پر اَدا نہ کی گئی تو بائع کو خریدار کی فلاں چیز فروخت کرکے اپنی قیمت وصول کرنے کا حق ہوگا، تاہم یہ ضرور ہے کہ اس کے قرضے سے زائد رقم اسے واپس کردی جائے۔(۶)
رہی یہ بات کہ قسطوں پر جو چیز دی جائے اس کی قیمت زیادہ لگائی جاتی ہے، تو اس معاملے کو شریعت نے فریقین کی صوابدید پر چھوڑا ہے۔ اگر خریدار محسوس کرتا ہے کہ قسطوں کی صورت میں اسے زیادہ نقصان اُٹھانا پڑے گا تو وہ اس خریداری سے اِجتناب کرسکتا ہے، تاہم اِستحصال کی صورت میں جس طرح گورنمنٹ کو قیمتوں پر کنٹرول کا حق ہے، اسی طرح بیع بالاقساط کی قیمت پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔(۷) چونکہ بالاقساط خریداری عوام کے لئے سہل ہے، اس لئے قطعی طور پر اس پر پابندی لگادینا مصلحتِ عامہ کے خلاف ہے۔ خلاصہ یہ کہ بیع بالاقساط اگر قواعدِ شرعیہ کے ماتحت اور شروطِ فاسدہ سے مبرا ہو تو جائز ہے، ورنہ ناجائز۔
(۱) البیع مع تأجیل الثمن، وتقسیطہ صحیح، یلزم أن تکون المدّۃ معلومۃ فی البیع بالتأجیل والتقسیط۔ (شرح المجلۃ للباز ص:۱۲۵ المادّۃ:۲۴۵، ۲۴۶)۔ أیضًا: أما الأئمۃ الأربعۃ وجمھور الفقھاء والمحدثین، فقد أجازوا البیع المؤجل بأکثر من سعر النقد، بشرط أن یبتّ العاقدان بأنہ بیع مؤجل بأجل معلوم وبثمن متفق علیہ عند العقد۔ (بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ ص:۷ طبع مکتبہ دارالعلوم کراچی)۔
(۲) وکل شرط لَا یقتضیہ العقد وفیہ منفعۃ لأحد المتعاقدین أو للمعقود علیہ وھو من أھل الْإستحقاق یفسدہ کشرط أن لَا یبیع المشتری العبد المبیع لأن فیہ زیادۃ عاریۃ عن العوض فیؤدیٰ إلی الربا ولأنہ یقع بسببہ المنازعۃ فیعری العقد عن مقصودہ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۵۹، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، النتف الفتاویٰ ص:۲۹۱)۔ وفی البخاری: باب إذا شرط فی البیع شروطًا لَا تحل، عن عائشۃ قالت: جائتنی بریرۃ فقالت ۔۔۔ ثم قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الناس فحمد اللہ وأثنٰی علیہ ثم قال: أما بعد! ما بال رجال یشترطون شروطًا لیست فی کتاب اللہ؟ ما کان من شرط لیس فی کتاب اللہ فھو باطل، وإن کان مائۃ شرط قضاء اللہ أحق وشرط اللہ أوثق وإنما الولَاء لمن اعتق۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۲۹۰)۔
(۳) واعلم ان البیع لَا ینعقد إلّا باجتماع خمسۃ أشیاء ۔۔۔ الخامس: القبض۔ (النتف فی الفتاویٰ ص:۲۷۵)۔
(۴) وکل شرط لَا یقتضیہ العقد وفیہ منفعۃ لأحد المتعاقدین أو للمعقود علیہ وھو من أھل الْإستحقاق یفسدہ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۵۹، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد)۔
(۵) الکفالۃ علٰی ضربین کفالۃ بالنفس وکفالۃ بالمال، فالکفالۃ بالنفس جائزۃ سواء کان بأمر المکفول عنہ أو بغیرہ کما یجوز فی المال ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ، کتاب الکفالۃ ج:۱ ص:۳۱۲ طبع دھلی)۔
(۶) وھو (الرھن) مضمون بالأقل من قیمتہ ومن الدین فإذا ھلک فی ید المرتھن وقیمتہ والدین سواء صار المرتھن مستوفیًا لدینہ، وإن کانت قیمۃ الرھن أکثر فالفضل أمانۃ لأن المضمون بقدر ما یقع بہ الْإستیفاء وذاک بقدر الدین۔ (ھدایۃ ج:۴ ص:۵۲۰، کتاب الرھن)۔قَالَ تَعَالَىﵟ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا ﵞ النساء ٥٨۔
(۷) (ولَا یسعّر حاکم) لقولہ علیہ السلام: لَا تسعروا فإن اللہ ھو المسعّر القابض الباسط الرازق۔ إلّا إذا تعدی أرباب الأموال عن القیمۃ تعدیا فاحشًا فیسعّر بمشورۃ أھل الرأی۔ (درمختار ج۶ ص:۳۹۹ کتاب الحظر والْإباحۃ، طبع سعید)۔

