بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قسطوں‌کا‌کاروبار

دس‌روپے‌کی‌نقد‌میں‌لی‌ہوئی‌چیز‌اُدھار‌قسطوں‌پر‌سو‌روپے‌میں‌فروخت‌کرنا

سوال:۔

ایک بہت اہم مسئلے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہا ہوں، اللہ تعالیٰ جل شانہ‘ اور آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود سے متعلق جس سختی سے اہلِ ایمان کو تنبیہ فرمائی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، لیکن دورِ حاضر میں سود کو ’’منافع‘‘ سے تعبیر کیا جانے لگا ہے۔ مثلاً بیمہ کمپنیاں، بینکوں کی طرف سے سود کو زیادہ سے زیادہ منافع کا لالچ دینا اور بہت سے دُوسرے طریقے رائج ہوتے جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طریقہ یعنی گھریلو مصارف کی اشیاء کو اَقساط پر دینا، اس پر فکس منافع بھی لینا اور گاہک کو دھوکا دینا بھی شامل ہے۔ کچھ قسطوں کے کاروبار کرنے والوں نے نام نہاد مُلَّاؤں سے فتویٰ بھی لے لیا ہے (۵۰روپے میں بآسانی مل جاتے ہیں) کہ یہ کاروبار سودی نہیں ہے، بلکہ خالصتاً تجارت ہے۔ یہ سارا اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یہ کاروبار بھی سود کی ایک قبیح شکل ہے، اس کاروبار کا طریقۂ کار یا طریقۂ واردات کہہ لیجئے کچھ یوں ہے:

دُکان دار ایک عدد پنکھا ہول سیل ریٹ پر مبلغ ۷۰۰روپے میں خرید کرتا ہے، پنکھے کے ریٹیل دام ۱۰۰۰روپے ہیں، اس ایک ہزار کے اُوپر ۳۵فیصد منافع جمع کرتا ہے، اس طرح اب اس کی قیمت ۱۳۵۰روپے بنتی ہے، اس رقم کا ایک تہائی پہلے وصول کرتا ہے، یعنی ۴۵۰روپے ایڈوانس، بقایا رقم ۲۰۰روپے ماہوار اَقساط کی صورت میں وصول کرتا ہے۔ گاہک نے جو رقم یعنی ۴۵۰روپے یکمشت ادا کی ہے اس پر بھی منافع جمع کرلیا ہے۔ اس طرح دُکان دار ۶۵۰روپے سود منافع کے نام پر وصول کرتا ہے۔

۱:۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ بینکوں اور مالیاتی اِداروں کی جانب سے کھاتہ داروں کو سودی منافع دینا اور قرض دینے کی صورت میں فکسڈ سود حاصل کرنا اور اس کاروبار میں کیا فرق ہے؟

۲:۔ اگر آپ یہ کہیں کہ یہاں تو رقم نہیں دی جارہی ہے بلکہ سامان دیا جارہا ہے، تو دُکان دار کو سامان دینے پر ڈبل رقم ملتی ہے کیونکہ اگر وہ گاہک کو۱۰۰۰روپے دیدے تو ہول سیل اور ریٹیل کے باعث اس کو ۳۰۰روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑے گا، جو اس کو قطعاً منظور نہیں، جبکہ وہ اپنی لگائی ہوئی رقم کا بڑا حصہ پہلے ہی وصول کرلیتا ہے، جیسا کہ اُوپر بیان کیا گیا ہے کہ۷۰۰روپے کی رقم سے ۴۵۰ روپے پہلے ہی وصول کرلئے، جبکہ بقایا ۲۵۰ روپے پر مزید ۶۵۰روپے سود وصول کرتا ہے، تو کیا یہ سود نہیں ہے؟

جواب:۔

جیسا کہ آپ نے تحریر فرمایا ہے، سود لینا بدترین گناہ ہے، اور سود لینے والوں کے خلاف اللہ تعالیٰ نے اِعلانِ جنگ فرمایا ہے۔(۱) آج جو پوری کی پوری قوم مختلف شکلوں میں عذابِ اِلٰہی کا مورد بنی ہوئی ہے، اس کی ایک اہم ترین وجہ ہمارے ملک کا سودی نظام ہے۔ جو لوگ سود لیتے اور دیتے ہیں ان کا اِیمان بھی مشتبہ ہے۔

۲:۔ قسطوں پر چیز لینا اور دینا جائز ہے۔(۲) فرض کیجئے! ایک چیز دس روپے کی ہے، آپ اس کو قسطوں کی شکل میں لیتے ہیں اور اس کی ایک سو روپے قیمت مقرّر کرتے ہیں، یہ شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ کوئی دُوسری غلط شرط اس میں شامل نہ ہو۔ آنجناب نے اس سلسلے میں جو شبہات ذِکر کئے ہیں، ان کا اس طرح سمجھنا مشکل ہے، کسی وقت موقع ملے تو آپ میرے پاس تشریف لائیں، تاکہ اس مسئلے پر تبادلۂ خیال کیا جائے۔

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞالبقرة ٢٧٥ قَالَ تَعَالَىﵟ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ ﵞ البقرة ٢٧٩۔
  2. (۲) البیع مع تأجیل الثمن، وتقسیطہ، صحیح، یلزم ان تکون المدۃ معلومۃ فی البیع بالتأجیل والتقسیط۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ص:۱۲۵، رقم المادّۃ:۲۴۵، ۲۴۶)۔ أیضًا: لأن للأجل شبھًا بالمبیع، ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۶ کتاب البیوع)۔