قسطوںکاکاروبار
ٹریکٹر،موٹروغیرہخریدنےکےلئےایکلاکھدےکرڈیڑھلاکھقسطوںمیںواپسلینا
سوال:۔
ہمارے علاقے کے دو عالمِ دِین حضرات لوگوں کو ٹریکٹر، موٹر وغیرہ خریدنے کے لئے رقم دیتے ہیں، اور دِی ہوئی رقم میں ایک لاکھ روپے پر ایک لاکھ پچاس ہزار روپے وصول کرتے ہیں، وصولی پانچ ہزار روپے ماہوار کے حساب سے ہوتی ہے، واضح رہے کہ وہ رقم نقدی کی صورت میں نہیں دیتے، صرف ٹریکٹر وغیرہ خریدنے کے لئے دیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
جواب:۔
دس ہزار کی رقم پر پندرہ ہزار وصول کرنا تو سود ہے، البتہ اگر دس ہزار کی (مثلاً) کوئی چیز خرید کر پندرہ ہزار کی دے دی جائے تو جائز ہے۔ آپ کے مولوی صاحبان اگر یہی صورت اِختیار کرتے ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ سود کھاتے ہیں۔(۱) واللہ اعلم!
- (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: کل قرض جرّ منفعۃ فھو ربا۔ (فیض القدیر ج:۹ ص:۴۴۸۷، طبع مکتبۃ نزار الریاض، إعلاء السُّنن، کتاب الحوالۃ ج:۱۴ ص:۵۱۲، ۵۱۳، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔

