قسطوںکاکاروبار
قسطوںکاکاروبارکرنےوالوںکاپیسہمسجدپرلگانا
سوال:۔
جو لوگ قسطوں پر سامان کی خرید وفروخت کرتے ہیں، یہ لوگ نفع بہت زیادہ رکھتے ہیں، کیا ان کا پیسہ مسجد میں لگ سکتا ہے یا نہیں؟
جواب:۔
جو لوگ قسطوں کا کاروبار کرتے ہیں، اگر ان کا کاروبار صحیح ہو تو خواہ وہ کتنا منافع رکھیں، ان کی رقم صحیح ہے۔(۱)
ایضًا:لأن للأجل شبھا بالمبیع، ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۶ کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ)۔ وقد فسر بعض أھل العلم قالوا بیعتین فی بیعۃ أن یقول أبیعک ھٰذا الثوب بنقد بعشرۃ، وبنسیئۃ بعشرین، ولَا یفارقہ علٰی أحد البیعین فإن فارقہ علٰی أحدھما فلا بأس إذا کانت العقدۃ علٰی واحد منھما۔ (ترمذی ج:۱ ص:۱۴۷ ابواب البیوع، باب ما جاء فی النھی عن بیعتین فی بیعۃٍ)۔
إن للأجل شبھًا بالمبیع ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل، والشبھۃ فی ھٰذا ملحقۃ بالحقیقۃ۔ (الھدایۃ ج:۳ ص:۷۶ باب المرابحۃ، طبع إمدادیہ ملتان، أیضًا: ومثلہ فی الدر المختار مع رد المحتار ج:۵ ص:۱۴۲، باب المرابحۃ والتولیۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۱) وعن أبی ھریرۃ قال: نھٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیعتین فی بیعۃ، وقد فسّر أھل العلم قالوا بیعتین فی بیعۃ أن یقول أبیعک ھٰذا الثوب بنقد بعشرۃ ونسیئۃ بعشرین، ولَا یفارقہ علٰی أحد البیعین، فإذا فارقہ علٰی أحدھما فلا بأس إذا کانت العقد علٰی واحد منھما۔ (ترمذی ج:۱ ص:۲۳۳، أبواب البیوع، باب ما جاء فی النھی عن بیعتین فی بیعۃ)۔

