قسطوںکاکاروبار
گاڑیکےٹائرقسطوںپرفروختکرنا
سوال:۔
میرے ایک دوست نے ٹائروں کا کاروبار شروع کیا ہے، وہ نقد رقم پر مارکیٹ سے ٹائر لاتے ہیں، اور گاڑی والے کو قسطوں پر دیتے ہیں، فی ٹائر مبلغ ۳۰۰ روپے کماتے ہیں، اور ٹائر لینے والا یہ رقم دو مہینے میں میرے دوست کو اَدا کرتا ہے۔ میرے خیال میں یہ کاروبار سود کے زُمرے میں آتا ہے، آپ ٹھیک جواب دیں۔
جواب:۔
یہ شرعاً سود نہیں۔(۱)
- (۱) البیع مع تأجیل الثمن وتقسیطہ صحیح، یلزم أن تکون المدۃ معلومۃ فی البیع بالتأجیل والتقسیط۔ (شرح المجلۃ ص:۱۲۵، رقم المادۃ:۲۴۵، ۲۴۶)۔

