قسطوںکاکاروبار
تینلاکھقیمتکارِکشاقسطوںپرچارلاکھکاخریدنا
سوال:۔
ایک رِکشے کی قیمت بازار میں نقد تین لاکھ روپے ہے، اگر یہی رِکشا اُدھار پر لیا جائے تو چار لاکھ رقم بطورِ قیمت وصول کی جاتی ہے۔ چنانچہ شورُوم والا پہلی قسط پچاس ہزار، اور بعد اَزاں ہر ماہ چار ہزار وصول کرتا ہے، اس طرح اُدھار خرید میں کل چار لاکھ قیمت ادا کرنی ہوتی ہے، کیا یہ خرید وفروخت صحیح ہے؟
جواب:۔
یہ سودا صحیح ہے،(۱) لیکن شرط یہ ہے کہ جو قیمت ایک بار طے ہوگئی پھر اس کو نہ بڑھایا جائے۔(۲)
- (۱) إن للأجل شبھًا بالمبیع ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل، والشبھۃ فی ھٰذا ملحقۃ بالحقیقۃ۔ (الھدایۃ ج:۳ ص:۷۶ باب المرابحۃ، طبع إمدادیہ ملتان، أیضًا: ومثلہ فی الدر المختار مع رد المحتار ج:۵ ص:۱۴۲، باب المرابحۃ والتولیۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) لما روی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ نھٰی عن قرض جرّ نفعًا، کل قرض جر نفعًا فھو ربا۔ (بدائع الصنائع ج:۷ ص:۵۹۷ کتاب القرض، الأشباہ والنظائر ص:۲۵۷)۔ مالک عن زید بن اسلم أنہ قال: کان الربا فی الجاھلیۃ أن یکون للرجل علی الرجل الحق إلٰی أجل فإذا حل الحق قال: أتقضی أم تربی؟ فإن قضٰی أخذ وإلّا زادہ فی حقہ وأخّر عنہ الأجل۔ (مؤطا إمام مالک ص:۶۰۶ کتاب البیوع، باب ما جاء فی الربا فی الدین، طبع میر محمد کراچی)۔

