بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قسطوں‌کا‌کاروبار

سلائی‌مشین‌دو‌ہزار‌کی‌خرید‌کر‌دو‌سو‌روپے‌ماہانہ‌قسط‌پر‌ڈھائی‌ہزار‌کی‌فروخت‌کرنا

سوال:۔

ایک شخص بازار سے سلائی مشین مبلغ دو ہزار میں خرید کر دُوسرے اشخاص کو مبلغ ۲۵۰۰روپے میں ماہانہ اَقساط پر دے دیتا ہے، اور ۲۰۰روپے یومیہ قسط وصول کرتا ہے، شرعاً قرآن وحدیث کی رُو سے اَقساط کا کاروبار جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

آپ نے جو صورت لکھی ہے، یہ صحیح ہے۔ اگر دو ہزار کی چیز کوئی آدمی نقد خریدے اور پچّیس سو روپے پر قسطوں میں دیدے تو کئی حرج نہیں۔(۱)

  1. (۱) لأن للأجل شبھا بالمبیع، ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۶ کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ)۔ وقد فسر بعض أھل العلم قالوا بیعتین فی بیعۃ أن یقول أبیعک ھٰذا الثوب بنقد بعشرۃ، وبنسیئۃ بعشرین، ولَا یفارقہ علٰی أحد البیعین فإن فارقہ علٰی أحدھما فلا بأس إذا کانت العقدۃ علٰی واحد منھما۔ (ترمذی ج:۱ ص:۱۴۷ ابواب البیوع، باب ما جاء فی النھی عن بیعتین فی بیعۃٍ)۔