بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قسطوں‌کا‌کاروبار

قسطوں‌پر‌گاڑیوں‌کا‌کاروبار‌کرنا‌ضروری‌شرطوں‌کے‌ساتھ‌جائز‌ہے

سوال:۔

قسطوں پر گاڑیوں کی خرید و فروخت سود کے زُمرے میں آتی ہے یا نہیں؟

جواب:۔

اگر بیچنے والا گاڑی کے کاغذات مکمل طور پر خریدار کے حوالے کردے اور قسطوں پر فروخت کرے تو جائز ہے۔ اس میں اُدھار پر بیچنے کی وجہ سے گاڑی کی اصل قیمت میں زیادتی کرنا بھی جائز ہے، یہ سود کے حکم میں نہ ہوگی، لیکن اس میں یہ ضروری ہے کہ ایک ہی مجلس میں یہ فیصلہ کرلیں کہ خریدار نقد لے گا یا کہ اُدھار قسطوں پر، تاکہ اسی کے حساب سے قیمت مقرّر کی جائے، مثلاً: ایک چیز کی نقد قیمت: ۰۰۰،۵روپے اور اُدھار قسطوں پر اس کو: ۰۰۰،۷روپے میں فروخت کرتا ہے تو اس طرح قیمت میں زیادتی کرنا جائز ہوگا اور سود کے حکم میں نہ ہوگا۔(۱)

  1. (۱) وعن أبی ھریرۃ قال: نھٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیعتین فی بیعۃ، وقد فسّر أھل العلم قالوا بیعتین فی بیعۃ أن یقول أبیعک ھٰذا الثوب بنقد بعشرۃ ونسیئۃ بعشرین، ولَا یفارقہ علٰی أحد البیعین، فإذا فارقہ علٰی أحدھما فلا بأس إذا کانت العقد علٰی واحد منھما۔ (ترمذی ج:۱ ص:۲۳۳، أبواب البیوع، باب ما جاء فی النھی عن بیعتین فی بیعۃ)۔