بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قسطوں‌کا‌کاروبار

قسطوں‌میں‌زیادہ‌دام‌دے‌کر‌خرید‌و‌فروخت‌جائز‌ہے

سوال:۔

ایک شخص ٹرک خریدنا چاہتا ہے، جس کی قیمت ۵۰ہزار روپے ہے، لیکن وہ شخص مجموعی طور پر اتنی استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ اس ٹرک کی یکمشت قیمت ایک ہی وقت میں ادا کرسکے، لہٰذا وہ اسے قسطوں کی صورت میں خریدتا ہے، لیکن قسطوں کی صورت میں اسے ٹرک کی اصلی قیمت سے ۳۰ہزار روپے زیادہ ادا کرنے پڑتے ہیں اور ایڈوانس ۲۰ہزار روپے اور ماہوار قسط ۱۵ سو روپے ادا کرنے ہوں گے۔ براہِ مہربانی شریعت کی رُو سے جواب عنایت فرمائیں کہ اس ٹرک کی یا اور اسی قسم کی کسی بھی چیز کی خرید و فروخت جائز ہوگی یا نہیں؟

جواب:۔

جائز ہے۔(۱)

  1. (۱) البیع مع تأجیل الثمن، وتقسیطہ صحیح، یلزم أن تکون المدّۃ معلومۃ فی البیع بالتأجیل والتقسیط۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ص:۱۲۵ رقم المادّۃ:۲۴۵، ۲۴۶)۔ وفی المبسوط: وإذا اشتریٰ شیئًا بنسیئۃ فلیس لہ أن یبیعہ مرابحۃ حتّٰی یبین أنہ اشتراہ بنسیئۃ، لأن بیع المرابحۃ بیع أمانۃ تنفی عنہ کل تھمۃ وجنایۃ ویتحرز فیہ من کل کذب ۔۔۔ ثم الْإنسان فی العادۃ یشتری الشیء بالنسیئۃ بأکثر مما یشتری بالنقد، فإذا أطلق الْإخبار بالشراء فإنما یفھم السامع من الشراء بالنقد فکان من ھٰذا الوجہ کالمخبر بأکثر مما اشتریٰ بہ۔ (المبسوط، أوّل کتاب المرابحۃ ج:۱۳ ص:۷۸، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔ ولأن للأجل شبھًا بالمبیع، ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجلہ۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۵ ص:۱۴۲ باب المرابحۃ والتولیۃ)۔ أیضًا: أما الأئمۃ الأربعۃ وجمھور الفقھاء والمحدثین فقد أجازوا البیع المؤجل بأکثر من سعد النقد بشرط أن یبتّ العاقدان بأنہ بیع مؤجل بأجل معلوم وبثمن متفق علیہ عند العقد۔ (بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ ص:۷، طبع مکتبہ دارالعلوم کراچی)۔