مکان،زمین،دُکاناوردُوسریچیزیںکرایہپردینا
کرایہوقتپرادانہکرنےپرجرمانہصحیحنہیں
سوال:۔
دُکان دارانِ جامع مسجد محمدی کے درمیان چار روپے کے اسٹامپ پر یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ہر دُکان دار ہر ماہ کی دس تاریخ تک کرایہ ادا کردے گا، بروقت کرایہ نہ دینے کی صورت میں کچھ رقم یومیہ جرمانہ ادا کریں گے۔ یہ معاہدہ دُکان کرایہ پر لیتے وقت بخوشی و رضا ہوا تھا، اس طرح جرمانہ وصول کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔
شرعاً اس طرح مالی جرمانہ وصول کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔(۱)
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ وفی تفسیر القرطبی: من أخذ مال غیرہ لَا علٰی وجہ إذن الشرع، فقد أکلہ بالباطل۔ (تفسیر قرطبی ج:۲ ص:۳۲۳)۔ وفی الدر المختار: لَا بأخذ مال فی المذھب۔ قال الشامی: (قولہ: لَا بأخذ مال) قال فی الفتح وعن أبی یوسف یجوز التعزیر للسلطان بأخذ المال وعندھما وباقی الأئمۃ لَا یجوز وظاھر ان ذٰلک روایۃ ضعیفۃ عن أبی یوسف قال فی الشرنبلالیۃ ولَا یفتی بھٰذا لما فیہ من تسلیط الظلمۃ علٰی أخذ مال الناس ثم قال ولَا یجوز من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعی۔ (شامی ج:۴ ص:۶۱، مطلب فی التعزیر بأخذ المال)۔

