مکان،زمین،دُکاناوردُوسریچیزیںکرایہپردینا
کسیکامکانخالینہکرنایاٹالمٹولکرناشرعاًکیساہے؟
سوال:۔
ایک شخص نے اپنا ذاتی مکان کسی دُوسرے شخص کو ماہوار کرایہ پر دیا، کچھ عرصہ گزرجانے کے بعد مالکِ مکان نے کرایہ دار کو اپنی جائز اور اَشد ضرورت کے تحت مکان خالی کرنے کا کہا اور معقول مدّت کا نوٹس پیریڈ بھی دیا۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا شریعت کی رُو سے کرایہ دار کو مکان خالی کردینا لازم ہے؟ اور اگر وہ مکان خالی نہیں کرتا اور ٹال مٹول سے کام لیتا ہے تو شریعت کی رُو سے کرایہ دار پر کیا اَحکامات لاگو ہیں؟ اور اس کی سزا کیا ہے؟
جواب:۔
اگر مالکِ مکان کرایہ دار کو مکان خالی کرنے کا کہے تو اس کے ذمے مکان خالی کردینا واجب ہے، اور خالی کرنے سے اِنکار کردینا یا ٹال مٹول سے کام لینا شرعاً حرام ہے۔ مالک کی رضامندی کے بغیر اگر مکان میں رہائش کرے گا تو اللہ تعالیٰ کے دفتر میں اس کا نام ’’غاصب‘‘ لکھا جائے گا، اور اس مکان میں رہتے ہوئے اس کی کوئی عبادت قبول نہیں ہوگی۔ بعض کرایہ دار مکان خالی کرنے کا معاوضہ وصول کرتے ہیں، تب مکان خالی کرتے ہیں، یہ معاوضے کی رقم اُن کے لئے مالِ حرام ہے،(۱) اور مالِ حرام کھانے والوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ ان پر جنت حرام ہے، اور وہ دوزخ کے مستحق ہیں۔(۲)
- (۱) لَا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعی۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۶۱، مطلب فی التعزیر۔۔۔إلخ)۔
- (۲) عن جابر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یدخل الجنّۃ لحم نبت من السُّحْت، وکل لحم نبت من السُّحْت کانت النار أولٰی بہٖ۔ رواہ أحمد والدارمی والبیھقی فی شعب الْإیمان۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۲، باب الکسب وطلب الحلال)۔ وعن أبی بکر أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یدخل الجنَّۃ جسد غذی بالحرام۔ رواہ البیھقی فی شعب الْإیمان۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۳، باب الکسب وطلب الحلال، طبع قدیمی)۔

