مکان،زمین،دُکاناوردُوسریچیزیںکرایہپردینا
کرایہدارکابلڈنگخالینہکرناناجائزہے
سوال:۔
میں ایک کمرشل بلڈنگ کا مالک ہوں، جس کو کرایہ پر لینے کے لئے ایک شخص نے مجھ سے درخواست کی، شرائط طے ہوگئیں، دو معزّزین کی موجودگی میں اس نے ضمناً یقین دہانی کرائی کہ دورانِ مدّتِ کرایہ داری مذکورہ شرائط پوری کرتا رہے گا اور بعد اِختتامِ میعاد، بلڈنگ مذکورہ خالی کرکے صلح صفائی کے ماحول میں حوالہ مالک کردے گا۔ چنانچہ اس یقین دہانی کی بنا پر تمام شرائط دو گواہان کی موجودگی میں اسٹامپ پر معاہدہ تحریر و تکمیل کرکے بعدالت رجسٹرار صاحب تصدیق کرالیا گیا۔ میعاد کرایہ داری پانچ سال ختم ہوگئی ہے، لیکن کرایہ دار بلڈنگ مذکورہ کو خالی کرکے قبضہ دینے سے گریز کر رہا ہے۔ میرا بیٹا جو کہ بیرونِ ملک ملازم تھا، اب واپس وطن آچکا ہے، اس کے دو بیٹے اور بذاتِ خود بیکار ہیں، ہم سب کو رزقِ حلال کمانے کے لئے سب سے اوّل اپنی مملوکہ جگہ کی ضرورت ہے، ہمارے پاس ماسوا مذکورہ جائیداد کے کوئی دُوسری کاروباری جگہ نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی دُوسرا ذریعۂ معاش۔ حصولِ انصاف اور عدالتی دادرسی کے لئے مروّجہ قانون کے مطابق بہت طولانی، گراں اور کٹھن منزلیں طے کرنا پڑتی ہیں، جو اِسلامی دور میں ننگِ ملک و قوم ہے۔ اَز راہِ کرم میرے مندرجہ بالا حلفیہ بیان کی روشنی میں مالکِ مکان، کرایہ دار کی ذمہ داریوں، فرائض اور حقوق کی وضاحت فرمائیں۔ شرعی نقطۂ نگاہ سے اس کا سہل اور فوری حل کیا ہوسکتا ہے؟
جواب:۔
سہل اور فوری حل تو خوفِ خدا ہے۔ جب ایک شخص نے پانچ سال کی میعاد کا معاہدہ کرکے مکان کرائے پر لیا ہے تو میعاد گزرنے کے بعد اس کے لئے مکان کا استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں۔ اگر مسلمان حلال و حرام کا لحاظ رکھیں تو آدھے جھگڑے فوراً نمٹ جائیں۔(۱)
- (۱) لَا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک غیرہ بلا إذنہ۔ (شرح المجلۃ ص:۶۱، المادّۃ:۹۶، طبع کوئٹہ)۔

