بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مکان،‌زمین،‌دُکان‌اور‌دُوسری‌چیزیں‌کرایہ‌پر‌دینا

کرایہ‌دار‌کا‌مکان‌خالی‌کرنے‌کے‌عوض‌پیسے‌لینا

سوال:۔

میرے شوہر نے اپنا مکان ایک شخص کو بارہ سال قبل ۱۹۷۲ء میں دو سو پچاس روپے ماہوار کرایہ پر دیا تھا، اور اسٹامپ پر گیارہ ماہ کا معاہدہ ہوا تھا، جس کی رُو سے گیارہ مہینے کے بعد مالکِ مکان اپنا مکان خالی کرواسکتا ہے۔ ۱۹۷۶ء میں میرے شوہر کا انتقال ہوگیا، تب کرایہ دار مذکور نے بڑی مشکل سے چند معزّز لوگوں کے مجبور کرنے اور احساس دِلانے سے ۱۹۷۷ء میں کرایہ میں سو روپے کا اضافہ کیا۔ ۱۹۷۹ء میں مجھے اپنے شوہر کے مکان کی ضرورت پڑی تو میں نے اس شخص کو مکان خالی کرنے کو کہا تو کرایہ دار اور اس کے لڑکے آگ بگولہ ہوگئے اور دھمکی اور دھونس کے ساتھ مکان خالی کرنے سے صاف انکار کردیا۔ میں نے اور میرے دیور نے چند معزّزین سے رُجوع کیا، انہوں نے کرایہ دار اور اس کے لڑکوں کو سمجھایا اور احساس دِلایا کہ ایک بیوہ اور اس کے تین چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں، ایک بوڑھی ساس اور معذور دیور کا ہی خیال کرو۔ بہت سمجھانے بجھانے کے بعد آخر کرایہ دار مذکورہ مکان خالی کرنے پر راضی ہوا کہ بہت جلد مکان خالی کردُوں گا۔ مگر ڈھائی سال تک ٹال مٹول اور بہانے بازی کرتا رہا، تو ہم نے کرایہ دار کو آگاہ کیا کہ اب ہم مارشل لا سے رُجوع کریں گے، تو کرایہ دار، محلے کے ایک شخص کو ساتھ لے کر ہمارے پاس آیا اور وعدہ کیا کہ دو مہینے میں ہر صورت میں مکان خالی کردُوں گا، اور اس محلے والے نے بھی گواہی دی اور دو ماہ کے بعد مکان خالی کرنے کا دونوں حضرات جو آپس میں رشتہ دار ہیں وعدہ کرکے چلے گئے۔ اس دوران کرایہ دار نے وکیل وغیرہ سے مشورہ کیا اور کرایہ کورٹ میں جمع کرادیا، جب کافی دنوں کے بعد کورٹ سے نوٹس آیا تو ہمیں کرایہ دار کی بدعہدی اور وعدہ شکنی کا علم ہوا، تو ہم نے کرایہ دار سے اس وعدہ شکنی اور مکان خالی نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو اس نے مکان خالی کرنے سے صاف انکار کیا اور بڑی رعونت سے کہا: ’’مکان پہلے ہندو کا تھا، میں اپنے نام کر واسکتا تھا، اور اگر مکان خالی کروانا ہے تو اَسّی ہزار روپے مجھے دو تو ایک مہینے میں مکان خالی کردُوں گا۔‘‘ اس کی اس بدنیتی اور فریب کاری سے جتنا دُکھ پہنچا، آپ اندازہ کرسکتے ہیں۔ میں نے ایک درخواست مارشل لا حکام کو دی اور ایک درخواست ڈی ایم ایل اے کو کھلی کچہری میں پیش کی، حیدرآباد کے متعدّد چکر لگانے کے بعد امنِ عامہ سے متعلق ایس ڈی ایم نے دونوں فریقوں یعنی کرایہ دار اور مکان کے مالک کی حیثیت سے میرا معاہدہ کرادیا کہ کرایہ دار کے طلب کردہ آٹھ ہزار روپے مالکِ مکان کی بیوہ، کرایہ دار کو مکان خالی کرنے کے عوض دیں گی اور تین مہینے کے عرصے میں کرایہ دار مکان خالی کردے گا اور آٹھ ہزار روپے لے لے گا۔ یہ معاہدہ دونوں فریقوں کی رضامندی سے طے ہوا تھا اور دونوں فریقوں یعنی کرایہ دار اور میں نے معاہدے پر دستخط کئے، ایس ڈی ایم (برائے امنِ عامہ) نے اپنی مہر لگائی اور دستخط کئے، تین مہینے کی مدّت پوری ہوجانے پر مقرّر تاریخ کو میں مکان کا قبضہ لینے پہنچی، تو مجھے بڑی تکلیف اور پریشانی کا سامنا ہوا، اور شدید ذہنی اذیت پہنچی، کرایہ دار اور اس کے لڑکوں نے نیچے گودام کے دروازے غائب کرکے گودام میں بھینسیں لاکر باندھ دیں، اور مختلف طریقوں سے مجھے خوف زدہ کیا اور دھمکی آمیز لہجے میں کہا: ’’ہم مکان خالی نہیں کرسکتے، جب ہمیں مکان ملے گا جب خالی کریں گے‘‘ اس کے بعد میں نے ایس ڈی ایم صاحب سے دوبارہ رُجوع کیا اور پھر حیدرآباد کے متعدّد چکر لگائے جس میں میرا وقت اور پیسہ ضائع ہوا اور سفر کی صعوبت اُٹھائی، مگر ایس ڈی ایم صاحب جو ایک معزّز سرکاری افسر ہیں، جنھوں نے دونوں فریقوں کے مابین معاہدہ کرایا تھا وہ بھی کرایہ دار مذکور کو جس نے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی، معاہدے کی پابندی کرانے سے قاصر رہے، اور درخواست پر کچھ لکھ کر کہا کہ میں یہ واپس مارشل لا حکام کو بھیج رہا ہوں، وہی فیصلہ کریں گے۔ مگر آج سات آٹھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔ میں نے کرایہ دار کے ناجائز مطالبے پر آٹھ ہزار روپے محض اس لئے دینے منظور کئے تھے کہ ہم لوگ مزید پریشانی اور تکالیف سے بچ جائیں گے، حالانکہ کرایہ دار بارہ سال قبل ۲۵۰ روپے ماہوار پر قیام پذیر ہوا تھا اور ان بارہ سالوں کے طویل عرصے میں صرف ایک بار ۱۹۷۷ء میں کرائے میں سو روپے کا اضافہ کیا تھا۔ جبکہ آج مہنگائی کے سبب کرائے بھی چار پانچ گنا بڑھ چکے ہیں، اور خود حکومت نے سالانہ دس فیصد اضافے کا اختیار دے رکھا ہے، اس طرح کرایہ دار ہم مجبوروں کا حق غصب کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے۔ محترم مولانا صاحب! آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں اور اسلامی قانون کی رُو سے بتائیں کہ اس کی کیا سزا ہے؟

جواب:۔

شرعی حکم یہ ہے کہ جب مالکِ مکان کو ضرورت ہو، وہ مکان خالی کرواسکتا ہے،(۱) اور کرایہ دار کے ذمہ معاہدے کے مطابق مکان خالی کردینا لازم ہے،(۲) ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ظالم و غاصب کی حیثیت سے پیش ہوگا۔ اور آج کل جو رسم چل نکلی ہے کہ کرایہ دار کچھ معاوضہ لے کر مکان خالی کرتا ہے (جیسا کہ آپ کا، کرایہ دار کے ساتھ آٹھ ہزار روپے کا معاہدہ کرایا گیا) کرایہ دار کے لئے اس رقم کا وصول کرنا، مردار اور خنزیر کی طرح قطعی حرام ہے۔(۳) جو شخص، خدا، رسول اور آخرت کی جزا و سزا پر اِیمان رکھتا ہو، وہ ایسی حرام خوری کا اِرتکاب نہیں کرسکتا۔ اب یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ آپ کا کرایہ دار مالکِ مکان سے اس ’’جرم‘‘ میں کہ اس نے چودہ سال اس مکان میں کیوں ٹھہرنے دیا، آٹھ ہزار کا ہرجانہ مانگ رہا ہے، اس کو ’’اندھیر نگری‘‘ ہی کہا جائے گا۔

رہا یہ کہ حاکم آپ کو انصاف دِلادیں گے، مجھے اس کی توقع نہیں، کیونکہ اوّل تو ہمارے اُونچے افسران کو اُونچا سنائی دیتا ہے، کسی بے کس یتیم، کسی بیوہ، لاچار، اپاہج اور کسی پیرِ ناتواں کی آہیں ان کے ایوانوں تک شاذ و نادر ہی پہنچتی ہیں۔ دُوسرے ہمارے ہاں انصاف خواہی کسی کمزور آدمی کا کام نہیں، جناب گورنر یا وفاقی محتسبِ اعلیٰ تک رسائی کسی بڑے آدمی ہی کی ہوسکتی ہے، نہ آپ کی قسم کے گمنام لوگوں کی درخواستوں کی، اور نہ مجھ ایسے کے کالم کی۔ آپ صبر کیجئے، اللہ تعالیٰ آپ کو اِنصاف دِلائیں گے۔

  1. (۱) قال فی الدر المختار آجر کل شھر بکذا فلکل الفسخ عند تمام شھر۔ (درمختار ج:۶ ص:۴۵، باب الْإجارۃ الفاسدۃ)۔ آجر دارہ ثم أراد نقض إجارتھا وبیعھا لأنہ لَا نفقۃ لہ ولعیالہ فلہ ذٰلک۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۴۵۹)۔
  2. (۲) قَالَ تَعَالَىﵟ وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا ﵞ الإسراء ٣٤۔ قال المظھری أی مطلوبا یطلب من العاھد أن لَا یضیعہ۔ (تفسیر مظہری ج:۵ ص:۴۳۹)۔
  3. (۳) عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امرء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۵۵)۔قَالَ تَعَالَىﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ البقرة ١٨٨وفی الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، تحت ھٰذہ الآیۃ: من أخذ مال غیرہ لَا علٰی وجہ إذن الشرع، فقد أکلہ بالباطل۔ (تفسیر قرطبی ج:۲ ص:۳۲۳ طبع دار إحیاء التراث، بیروت)۔ أیضًا: ﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞبما لم تبحہ الشریعۃ من نحو السرقۃ والخیانۃ والغصب والقمار وعقود الربا۔ (تفسیر النسفی ج:۱ ص:۳۵۱، طبع دار ابن کثیر، بیروت)۔