مکان،زمین،دُکاناوردُوسریچیزیںکرایہپردینا
کرایہکےمکانکیمعاہدہشکنیکیسزاکیاہے؟
سوال:۔
میں نے اپنی دُکان ایک شخص کو اس شرط کے ساتھ کرایہ پر دی جو کہ معاہدے میں تحریر ہے کہ اگر میری مرضی نہ ہوئی تو ۱۱ ماہ بعد دُکان خالی کرالوں گا۔ معاہدے میں جس پر دو مسلمان گواہوں کے دستخط بھی موجود ہیں، اس طرح تحریر ہے: ’’ختم ہونے میعاد پر مقر نمبر ایک (کرایہ دار)، مقر نمبر دو (مالک) جدید دُوسرا کرایہ نامہ تحریر کراکے کرایہ دار رہ سکیں گے، ورنہ خود فوراً دُکان خالی کرکے قبضہ و دخل مقر نمبر دو (مالک) کے سپرد کردیں گے، اور بقیہ رقم ڈپازٹ مقر نمبر دو سے حاصل کرلیں گے‘‘ میں نے میعاد ختم ہونے سے تین ماہ قبل ذاتی کاروبار کرنے کے لئے کرایہ دار سے دُکان خالی کرنے کے لئے کہا، اس نے گواہوں کے رُوبرو دُوسری دُکان تلاش کرکے دُکان خالی کرنے کا اقرار کیا، اور اس طرح ٹال مٹول کرکے سولہ ماہ گزار دئیے، اور پھر صاف انکار کردیا۔ میں نے دو سال گزرنے کے باوجود اس وجہ سے کرایہ نامہ بھی نہیں لکھا اور نہ اس نے اب تک دُکان خالی کی۔ موجودہ عدالتی قانون کے مطابق اس طرح کے معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں، نہ معاہدہ توڑنے کی کوئی سزا ہی ہے، یہ ایگریمنٹ صرف دِل کو تسلی دینے کے برابر حیثیت رکھتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ شریعت میں یہ معاہدہ وعدہ خلافی میں آتا ہے، اور اسلامی قانون کے مطابق شریعت میں اس کے خلاف کی سزا کیا ہے؟ اور پاکستان کی اسلامی حکومت میں اس پر عمل کیوں نہیں ہو رہا ہے؟
جواب:۔
معاہدہ شکنی گناہِ کبیرہ ہے،(۱) آپ پاکستان کے اس قانون کو جو معاہدہ شکنی کو جائز کہتا ہے، شرعی عدالت میں چیلنج کرسکتے ہیں۔
- (۱) قَالَ تَعَالَىﵟ وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا ﵞ الإسراء ٣٤۔ قال المظھری أی مطلوب یطلب من العاھد ان لَا یضیعہ۔ (تفسیر مظھری ج:۵ ص:۴۳۹)۔ وعن عبداللہ بن عمرو ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: أربع من کنّ فیہ کان منافقًا خالصًا، ومن کانت فیہ خصلۃ منھنّ کانت فیہ خصلۃ من النفاق حتّٰی یدعھا: إذا اؤتمن خان، وإذا حدّث کذب، وإذا عاھد غدر، وإذا خاصم فجر۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۰، کتاب الْإیمان، طبع نور محمد کراچی)۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: الزواجر عن إقتراف الکبائر ج:۱ ص:۱۰۸ تا ۱۱۰ الکبیرۃ الثالثۃ والخمسون: عدم الوفاء بالعھد، طبع بیروت)۔

