مکان،زمین،دُکاناوردُوسریچیزیںکرایہپردینا
کرایہدارسےایڈوانسلیہوئیرقمکاشرعیحکم
سوال:۔
مالکِ مکان کا کرایہ دار سے ایڈوانس رقم لینا امانت ہے یا قرضہ ہے؟
سوال:۔
کیا مالکِ مکان اپنی مرضی سے اس رقم کو استعمال کرسکتا ہے؟
سوال:۔
مالکِ مکان اگر اس رقم کو ناجائز ذرائع میں استعمال کرلے تو کیا گناہ کرایہ دار پر بھی ہوگا؟
سوال:۔
کیا کرایہ دار کو سالانہ اس رقم کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
سوال:۔
کیا مالکِ مکان اس رقم کو جائز ذرائع میں استعمال کرنے سے بھی گناہگار ہوگا؟
سوال:۔
اگر کرایہ دار اس رقم کو بطور قرضہ مالکِ مکان کو دیتا ہے تو اس صورت میں مکان والا متوقع گناہ سے بَری سمجھا جائے گا؟
سوال:۔
مالکِ مکان ایک طرف کرایہ میں بھاری رقم لیتا ہے، پھر ایڈوانس کے نام کی رقم سے فائدہ اُٹھاتا ہے، پھر سال دو سال میں کرایہ میں اضافہ بھی کرتا ہے، تو کیا یہ صریح ظلم نہیں، اس مسئلے کا سرِ عام عدالت کے واسطے سے، یا علمائے کرام کی تنبیہ کے ذریعے سے سدِ باب ضروری نہیں؟
جواب:۔
ہے تو امانت، لیکن اگر کرایہ دار کی طرف سے استعمال کی اجازت ہو (جیسا کہ عرف یہی ہے) تو یہ قرضہ شمار ہوگا۔
جواب:۔
مالک کی اجازت سے استعمال کرسکتا ہے۔
جواب:۔
نہیں۔(۱)
جواب:۔
جی ہاں۔(۲)
جواب:۔
اجازت کے ساتھ ہو تو گناہگار نہیں۔(۳)
جواب:۔
اُوپر معلوم ہوچکا ہے کہ گناہگار نہیں ہوگا۔(۴)
جواب:۔
زَرِ ضمانت سے مقصد یہ ہے کہ کرایہ دار بسااوقات مکان کو نقصان پہنچادیتا ہے، بعض اوقات بجلی، گیس وغیرہ کے واجبات چھوڑ کر چلا جاتا ہے، جو مالکِ مکان کو ادا کرنے پڑتے ہیں، اس کے لئے کرایہ دار سے زَرِ ضمانت رکھوایا جاتا ہے، ورنہ اگر پورا اعتماد ہو تو زَرِ ضمانت کی ضرورت نہ رہے۔(۵)
- (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ وَإِن تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ إِلَىٰ حِمۡلِهَا لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٞ ﵞ فاطر ١٨۔
- (۲) واعلم ان الدیون عند الْإمام ثلاثۃ: قوی ومتوسط وضعیف، فیجب زکاتھا إذا تم نصابا وحال الحول لٰـکن لَا فورًا بل عند قبض أربعین درھمًا من الدین القوی کقرض وبدل مال تجارۃ فکلما قبض أربعین درھمًا یلزمہ درھم۔ (درمختار ج:۲ ص:۳۰۵، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، طبع سعید کراچی)۔
- (۳) وعن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امرء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریۃ)۔ لَا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک غیرہ بلا إذنہ۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ص:۶۱ المادۃ:۹۶ طبع کوئٹہ)۔
- (۴) وعن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امرء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریۃ)۔ لَا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک غیرہ بلا إذنہ۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ص:۶۱ المادۃ:۹۶ طبع کوئٹہ)۔
- (۵) قَالَ تَعَالَىﵟ وَإِن كُنتُمۡ عَلَىٰ سَفَرٖ وَلَمۡ تَجِدُواْ كَاتِبٗا فَرِهَٰنٞ مَّقۡبُوضَةٌۖ ﵞ البقرة ٢٨٣۔ قال المظھری: والشرط خرج مخرج العادۃ علی الأعم الأغلب فلیس مفھوم معتبر عند القائلین بالمفھوم وأیضًا حیث یجوز الرھن فی الحضر مع وجود الکاتب إجماعًا۔ (تفسیر مظھری ج:۱ ص:۴۳۲)۔ وعن عائشۃ قالت: اشتریٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن یھودی طعامًا ورھنہ درعہ۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۴۱، مسلم ج:۲ ص:۲۱)۔ أیضًا: الکفالۃ علٰی ضربین، کفالۃ بالنفس وکفالۃ بالمال، فالکفالۃ بالنفس جائزۃ سواء کان بأمر المکفول عنہ أو بغیرہ کما یجوز فی المال ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ، کتاب الکفالۃ ص:۲۱۳ طبع دھلی)۔

