بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مکان،‌زمین،‌دُکان‌اور‌دُوسری‌چیزیں‌کرایہ‌پر‌دینا

وڈیو‌فلمیں‌کرائے‌پر‌دینے‌کا‌کاروبار‌کرنا

سوال:۔

کیا ویڈیو فلمیں کرائے پر دینے والوں کا کاروبار جائز ہے؟ اگر نہیں تو کیا یہ کاروبار کرنے والے کی نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دُوسرے نیک افعال قبول ہوں گے؟

جواب:۔

فلموں کے کاروبار کو جائز کیسے کہا جاسکتا ہے؟(۱) اس کی آمدنی بھی حلال نہیں۔(۲) نماز، روزہ اور حج، زکوٰۃ فرائض ہیں، وہ ادا کرنے چاہئیں، اور وہ ادا ہوجائیں گے، مگر ان میں نور پیدا نہیں ہوگا جب تک آدمی گناہوں کو ترک نہ کرے۔

  1. (۱) قَالَ تَعَالَىﵟ وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ ﵞ لقمان ٦۔قال المظھری أی ما تلھی وتشتغل عما یفید من الأحادیث التی لَا أصل لھا والأساطیر التی لَا إعتبار فیھا والمضاحیک وفضول الکلام۔ (تفسیر مظھری ج:۷ ص:۲۴۶)۔ وھٰکذا قال قالت الفقھاء الغناء حرام بھٰذہ الآیۃ لکونہ لھو الحدیث۔ (تفسیر مظھری ج:۷ ص:۲۴۸)۔ وقال الشامی قلت فی البزازیۃ صوت الملاھی کضرب قصب ونحوہ حرام لقولہ علیہ السلام استماع الملاھی معصیۃ والجلوس علیھا فسق والتلذذ بھا کفر أی بالنعمۃ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۶ ص:۳۴۹ کتاب الحظر والْإباحۃ، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
  2. (۲) ولَا یجوز الْإستئجار علی الغناء والنوح وکذا سائر الملاھی لأنہ إستئجار علی المعصیۃ والمعصیۃ لَا یستحق بالعقد۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۳۰۳، کتاب الْإجارات، باب إجارۃ الفاسدۃ)۔