بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مکان،‌زمین،‌دُکان‌اور‌دُوسری‌چیزیں‌کرایہ‌پر‌دینا

کرائے‌پر‌لی‌ہوئی‌دُکان‌کو‌کرایہ‌پر‌دینا

سوال:۔

ایک صاحب نے ایک دُکان مع اس کے فرنیچر اور فٹنگ کے مالکِ جائیداد سے مبلغ ۲۴ہزار روپے میں لی ہے، اور اس کا کرایہ بھی پچاس روپے ماہانہ دیتے ہیں، احقر ان سے یہ دُکان دو سو پچاس روپے ماہانہ کرایہ پر لیتا ہے، آیا اس صورت میں شرعاً ان کے لئے اور میرے لئے ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب:۔

اس دکان کا کرایہ پر لینا آپ کے لئے جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں۔(۱)

  1. (۱) وقال اعلم ان الْإجارۃ إنما تجوز فی الأشیاء التی تتھیأ ویمکن لمستأجرھا استجلاب منافعھا مع سلامۃ أعیانھا لمکانھا لمالکھا۔ (النتف الفتاویٰ ص:۳۳۸)۔ والأصل عندنا ان المستأجر یملک الْإجارۃ فیما لَا یتفاوت الناس فی الْإنتفاع بہ کذا فی المحیط۔ ثم قال وإذا استأجر دارًا وقبضھا ثم آجرھا فإنہ یجوز إن آجرھا بمثل ما استأجرھا أو أقل وإن آجرھا بأکثر مما استأجرھا فھی جائز أیضًا إلّا أنہ ان کانت الأجرۃ الثانیۃ من جنس الأجرۃ أولٰی فإن الزیادۃ لَا تطیب لہ ویتصدق بھا وإن کانت خلاف جنسھا طابت لہ الزیادۃ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۴۲۵، کتاب الْإجارۃ، الباب السابع)۔ أیضًا: ویجوز إستئجار الدور والحوانیت للسکنٰی وإن لم یبین ما یعمل فیھا۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۲۹۷، کتاب الْإجارات)۔