بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مکان،‌زمین،‌دُکان‌اور‌دُوسری‌چیزیں‌کرایہ‌پر‌دینا

پگڑی‌پر‌دُکان‌ومکان‌دینا

سوال:۔

آج کل پورے ملک کے طول وعرض کے کئی شہروں میں پگڑی سسٹم پر دُکانیں اور مکانات فروخت کئے جاتے ہیں، جن میں زمین کا مالک فلیٹ بناکر اور دُکانیں بناکر لاکھوں روپے وصول کرتا ہے اور لاکھوں روپے وصول کرنے کے باوجود ہر ماہ پانچ فیصد کرایہ بھی وصول کرتا ہے، اور اگر فلیٹ یا دُکان فروخت کرنا ہو تب بھی مالکِ زمین نئے خریدار کے نام رسید بدلوائی کے لئے دس فیصد سے لے کر ۲۵فیصد تک رقم وصول کرتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا فلیٹ کی قیمت وصول کرنے کے باوجود ہر ماہ کرایہ لینا دُرست ہے؟ اور فلیٹ فروخت کرنے کے بعد رسید بدلوائی کے نام سے رقم لینا دُرست ہے؟ اگر یہ سب ناجائز ہے تو جائز صورت کیا ہوگی؟

جواب:۔

کراچی میں پگڑی پر مکان اور دُکان دینے کا جو رِواج ہے، وہ میری سمجھ میں نہیں آیا، یعنی کسی شرعی قاعدے کے تحت میں وہ نہیں آتا۔ اللہ جانے لوگوں نے یہ طریقہ کہاں سے اخذ کیا ہے؟ اور کسی عالم سے پوچھ کر یہ طریقہ اِختیار کیا ہے یا خود ہی ان کے ذہن نے یہ اِختراع کی ہے؟ بہرحال شرعی قواعد کے لحاظ سے یہ معاملہ ناجائز ہے۔ صحیح صورت یہ ہے کہ مالکِ مکان یا دُکان جتنی قیمت لینا چاہتا ہے، وہ لے کر خریدار کے نام منتقل کروادے، اور اس کو کلی طور پر مالکانہ حقوق حاصل ہوجائیں، اور اس بیچنے والا کا اس مکان یا دُکان سے کوئی تعلق نہ رہے۔(۱)

  1. (۱) قال فی الأشباہ: لَا یجوز الْإعتیاض عن الحقوق المجردۃ کحق الشفعۃ (وفی الشامیۃ) (قولہ لَا یجوز) قال فی البدائع الحقوق المجردۃ لَا تحتمل التملیک ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۴ ص:۵۱۸)۔