مکان،زمین،دُکاناوردُوسریچیزیںکرایہپردینا
زمیناورمکانکےکرایہکےجوازپرعلمیبحث
سوال:۔
روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ زمین بٹائی پر دینا اور مکان کا کرایہ لینا ’’سود‘ـ‘ ہے۔ یہ کہاں تک دُرست ہے؟
جواب:۔
روزنامہ ’’جنگ‘‘۱۳؍نومبر۱۹۸۱ء کی اشاعت میں جناب رفیع اللہ شہاب صاحب کا ایک مضمون ’’سود کی مصطفوی تشریح‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے احادیث کے حوالے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ: ’’اسلام زمین کو بٹائی پر دینے اور مکان کرائے پر چڑھانے کو سود قرار دیتا ہے‘‘ چونکہ اس سلسلے میں بہت سے سوالات آرہے ہیں، اس لئے بعض اکابر نے حکم دیا کہ ان مسائل کی وضاحت کردی جائے تو مناسب ہوگا کہ قارئین کے لئے موصوف کی تحریر پوری نقل کردی جائے تاکہ موصوف کے مدعا اور ان مسائل کی وضاحت کے سمجھنے میں کوئی اُلجھن نہ رہے۔
موصوف لکھتے ہیں:
’’ملکِ عزیز میں نظامِ مصطفی کی طرف پیش قدمی جاری ہے، لیکن اس مقصد کے لئے جس قدر ہوم ورک کی ضرورت ہے، ہمارے اہلِ علم اس کی طرف پوری توجہ نہیں دے رہے، بلکہ اہم ترین معاملات تک میں محض سنی سنائی باتوں پر اِکتفا کیا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال ’’سود‘‘ ہے جو اسلام میں سب سے سنگین جرم ہے۔ اس جرم کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآنِ حکیم نے کسی انسانی جان کے قتل کرنے کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے، لیکن سود کو اس سے بھی زیادہ سنگین جرم قرار دیتے ہوئے اسے اللہ اور رسول سے لڑائی قرار دیا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ ہم اسلام کے سب سے سنگین جرم کے بارے میں ابھی تک غفلت سے کام لے رہے ہیں۔
عام طور پر ہمارے ہاں بینک سے ملنے والے منافع کو سود سمجھا جاتا ہے اور اس کے علاوہ جتنے معاملات بھی اس سنگین جرم کی تعریف میں آتے ہیں، ان سے پہلوتہی کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام (جو نظامِ مصطفی کی ضد ہے) نے اسلامی ممالک میں اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ جب سود کے اَحکامات نازل ہوئے تھے اس وقت بینک نام کی کوئی چیز نہ تھی، احادیث کی کتابوں میں مذکور ہے کہ ان اَحکامات کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاروباری مقامات پر تشریف لے گئے اور مختلف قسم کے کاروبار کی تفصیلات دریافت کیں، اور ایسے تمام معاملات کہ جن میں بغیر کسی محنت کے منافع حاصل ہوتا، مثلاً: آڑھت کا کاروبار، اسے آپ نے سود قرار دیا۔ (نیل الاوطار ج:۵ ص:۱۷۴)
تفسیر مواہب الرحمن کے صفحہ:۱۲۱ پر درج ہے کہ:
اسی سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھیتوں میں بھی گئے تو وہاں حضرت رافع بن خدیج (جو ایک کھیت کاشت کر رہے تھے) سے ان کی ملاقات ہوئی، آپ نے کھیتی باڑی کی تفصیلات پوچھیں، تو انہوں نے بتایا کہ زمین فلاں شخص کی ہے اور وہ اس میں کام کر رہے ہیں، جب فصل ہوگی تو دونوں فریق برابر بانٹ لیں گے۔ آپ نے فرمایا: تم سودی کاروبار کر رہے ہو، اس لئے اسے ترک کرکے اتنی محنت کا معاوضہ لے لو۔ (سنن ابی داؤد، کتاب البیوع، باب المخابرہ، ج:۲)
ایک دُوسرے صحابی جابر بن عبداللہؓ سے جب کھیتی باڑی کی یہی تفصیلات سنیں تو آپ نے فرمایا کہ: جو زمین کے بٹائی کے معاملے کو ترک نہ کرے گا وہ اللہ اور رسول کے ساتھ لڑائی کے لئے تیار ہوجائے۔ (ایضاً)
خیال رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی بٹائی کے حوالے سے جو سود کی تشریح فرمائی آج کے جدید دور کے بڑے بڑے ماہرینِ معاشیات بھی اس کی یہی تعریف فرماتے ہیں۔ لارڈ کینز جو دورِ جدید کا ایک عظیم ماہرِ معاشیات ہے، اپنی مشہور کتاب جنرل تھیوری کے صفحہ:۲۴۲ اور ۲۴۳ میں سود کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ’’زمانۂ قدیم میں سود زمین کے کرائے کی شکل میں ہوتا تھا جسے آج کل بٹائی کا نظام کہتے ہیں۔‘‘
بہت سے صحابہ کرامؓ کے پاس اپنی خود کاشت سے زائد زمین تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی بٹائی کے معاملے کو سود قرار دے دیا تو انہوں نے اسے بیچنے کا پروگرام بنایا، لیکن جب اس سلسلے میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے اس زائد زمین کو بیچنے کی اجازت نہ دی، بلکہ فرمایا کہ: اپنے ضرورت مند بھائیوں کو مفت دے دو۔ اپنی زمین کسی کو مفت دے دینا آسان نہ تھا، اس لئے اکثر صحابہؓ نے بار بار اس سلسلے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے دریافت کی اور آپ نے ہر بار یہی جواب دیا۔ بخاری شریف اور مسلم میں اس مضمون کی کئی احادیث ہیں۔
بعض اصحابِ رسول کے پاس فاضل اراضی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جس کے پاس زمین ہو وہ یا تو خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو بخش دے، اور اگر انکار کرے تو اپنی زمین روک رکھے۔
(نیل الاوطار ج:۵ ص:۲۹۰)
مختصر یہ کہ سود کی اس تشریح کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔ خیال رہے کہ اس زمانے میں زمین ہی سرمایہ داری کا بڑا ذریعہ تھی۔
سرمایہ داری کا دُوسرا بڑا ذریعہ مکانات تھے، یہ مکانات زیادہ تر مکہ شریف میں واقع تھے، کیونکہ وہ ایک بین الاقوامی شہر تھا جہاں لوگ حج اور تجارت کے مقاصد کے لئے آتے جاتے تھے، آپ نے مکہ شریف کے مکانوں کا کرایہ بھی سود قرار دے کر مسلمانوں کو اس کے لینے سے منع کردیا، اور فرمایا کہ: ’’جس نے مکہ شریف کی دُکانوں کا کرایہ کھایا اس نے گویا سود کھایا۔‘‘ (ہدایہ ج:۴ ص: ۴۵۷، مطبوعہ دہلی)
یہ دونوں معاملات ایسے ہیں کہ ان میں لگائے ہوئے سرمایہ کی قیمت دن بدن بڑھتی رہتی ہے، جبکہ بینک میں جمع شدہ رقم کی قیمت دن بدن گھٹتی جاتی ہے، اس لئے مذکورہ بالا دونوں معاملات کا سود، بینک کے سود سے کئی درجے زیادہ خطرناک ہے۔ اُمید ہے کہ علمائے اسلام عامۃ الناس کو سود کی یہ مصطفوی تشریح سمجھاکر انہیں شریعت اسلامی کی رُو سے سب سے بڑے سنگین جرم سے بچانے کی کوشش کریں گے۔‘‘
جواب:۔
فاضل مضمون نگار نے اپنے پورے مضمون میں ایک تو افسانہ طرازی اور تاریخ سازی سے کام لیا ہے، اور پھر تمام مسائل پر ایک خاص ذہن کو سامنے رکھ کر غور کیا ہے، ان کے ایک ایک نکتے کا تجزیہ ملاحظہ فرمائیے۔
مزارعت:
جناب رفیع اللہ شہاب کے مضمون کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جو شخص اپنی زمین خود کاشت کرے اس کے لئے تو زمین کی پیداوار حلال ہے، لیکن اگر کوئی شخص اپنی زمین کی خود کاشت نہ کرسکے بلکہ اسے بٹائی پر دے دے یا ٹھیکے اور مستأجری پر دے دے تو یہ سود ہے، کیونکہ بقول ان کے: ’’ایسے تمام معاملات سود ہیں جن میں بغیر کسی محنت کے منافع حاصل ہوتا ہے‘‘ اور وہ اس نظریے کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ یہ نظریہ موجودہ دور کے سوشلزم کا تو ہوسکتا ہے، مگر اسلام سے اس نظریے کا کوئی تعلق نہیں۔
موصوف نے مزارعت کی ممانعت کے سلسلے میں ابوداؤد کے حوالے سے حضرت رافع بن خدیج اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما کی دو روایتیں نقل کی ہیں، جن میں مخابرۃ کو ’’سود‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ کاش! وہ اسی کے ساتھ ان دونوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہما سے جو ان احادیث کے راوی ہیں، اس کی وجہ بھی نقل کردیتے تو مسئلہ صحیح طور پر منقح ہوکر سامنے آجاتا۔ آئیے! ان دونوں بزرگوں ہی سے دریافت کریں کہ اس ممانعت کا منشا کیا تھا؟
’’عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ حَدَّثَنِیْ عَمَّایَ اَنَّہُمْ کَانُوْا یُکْرُوْنَ الْاَرْضَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا یَنْبُتُ عَلَی الْاَرْبِعَاءِ اَوْ بِشَیْءٍ یَّسْتَثْنِیْہِ صَاحِبُ الْاَرْضِ فَنَہَانَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ، فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَکَیْفَ ہِیَ بِالدِّیْنارِ وَالدَّرَاہِمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَیْسَ بِہَا بَاْسٌ بِالدِّیْنارِ وَالدَّرَاہِمِ، وَکَاَنَّ الَّذِیْ نُہِیَ عَنْ ذٰلِکَ مَا لَوْ نَظَرَ فِیْہِ ذَوُو الْفَہْمِ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ لَمْ یُجِیْزُوْہُ لِمَا فِیْہِ مِنَ الْمُخَاطَرَۃِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۱۵)
الف:۔ ’’رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے چچا بیان کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ زمین مزارعت پر دیتے تو یہ شرط کرلیتے کہ نہر کے متصل کی پیداوار ہماری ہوگی یا کوئی اور استثنائی شرط کرلیتے (مثلاً: اتنا غلہ پہلے ہم وصول کریں گے پھر بٹائی ہوگی)، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے حضرت رافعؓ سے کہا: اگر زَرِ نقد کے عوض زمین دی جائے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ رافعؓ نے کہا: اس کا مضائقہ نہیں۔ لیثؒ کہتے ہیں: مزارعت کی جس شکل کی ممانعت فرمائی گئی تھی اگر حلال و حرام کی فہم رکھنے والے لوگ غور کریں تو کبھی اسے جائز نہیں کہہ سکتے، کیونکہ اس میں معاوضہ ملنے نہ ملنے کا اندیشہ (مخاطرہ) تھا۔‘‘
نیز رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اس مضمون کی روایات کے لئے دیکھئے:
صحیح مسلم ج:۲ ص:۱۳، ابوداؤد ص:۴۸۱، ابنِ ماجہ ص:۱۷۹، نسائی ج:۲ ص:۱۵۳، شرح معانی الآثار ج:۲ ص:۲۱۴، وغیرہ۔
’’حَدَّثَنِیْ حَنْظَلَةُ بْنُ قَیْسٍ الْاَنْصَارِیُّ قَالَ: سَاَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِیْجٍ عَنْ کِرَاءِ الْاَرْضِ بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: لَا بَاْسَ بِہٖ، اِنَّمَا کَانَ النَّاسُ یُؤَاجِرُوْنَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمَاْذِیَانَاتِ وَاِقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَاَشْیَاءَ مِنَ الزَّرْعِ فَیَہْلِکُ ہٰذَا وَیَسْلَمُ ہٰذَا، وَیَسْلَمُ ہٰذَا وَیَہْلِکُ ہٰذَا، فَلَمْ یَکُنْ لِّلنَّاسِ کِرَاءٌ اِلَّا ہٰذَا فَلِذٰلِکَ زَجَرَ عَنْہُ، وَاَمَّا شَیْءٌ مَّعْلُوْمٌ مَّضْمُوْنٌ فَلَا بَاْسَ بِہٖ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۱۳)
ترجمہ:۔ ’’حنظلہ بن قیسؒ کہتے ہیں کہ: میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ: سونے چاندی (زَرِ نقد) کے عوض زمین ٹھیکے پر دی جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں! دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ جو مزارعت کرتے تھے (اور جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا) اس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ زمین دار، زمین کے ان قطعات کو جو نہر کے کناروں اور نالیوں کے سروں پر ہوتے تھے، اپنے لئے مخصوص کرلیتے تھے اور پیداوار کا کچھ حصہ بھی طے کرلیتے، بسااوقات اس قطعے کی پیداوار ضائع ہوجاتی اور اس کی محفوظ رہتی، کبھی برعکس ہوتا، اس زمانے میں لوگوں کی مزارعت کا بس یہی ایک دستور تھا، اس بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سختی سے منع کیا۔ لیکن اگر کسی معلوم اور قابلِ ضمانت چیز کے بدلے میں زمین دی جائے تو اس کا مضائقہ نہیں۔‘‘
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین لیا کرتے تھے چوتھائی پیداوار پر، تہائی پیداوار پر اور نہر کے کناروں کی پیداوار پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا۔‘‘(۱) (مسلم ج:۲ ص:۱۲)
حضرت رافع اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما کے ارشادات ہی سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت کی مطلقاً ممانعت نہیں فرمائی تھی، بلکہ مزارعت کی ان غلط صورتوں کو ’’رِبا‘‘ فرمایا تھا جن میں ناجائز شرطیں لگادی جائیں، مثلاً: یہ کہ زمین کے فلاں زَرخیز قطعے کی پیداوار مالک کو ملے گی اور باقی پیداوار تہائی یا چوتھائی کی نسبت سے تقسیم ہوگی، اس قسم کی مزارعت (جس میں غلط شرطیں رکھی گئی ہوں) باجماعِ اُمت ناجائز ہے۔
مزارعت سے ممانعت کی یہ توجیہ جو حضرت رافع اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے خود فرمائی ہے، وہ دیگر اکابر صحابہ کرامؓ سے بھی منقول ہے، مثلاً:
’’عَنْ سَعْدٍ قَالَ: کُنَّا نُکْرِی الْاَرْضَ بِمَا عَلَی السَّوَاقِیْ مِنَ الزَّرْعِ، وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِنْہَا، فَنَہَانَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ، وَاَمَرَنَا اَنْ نُّکْرِیَہَا بِذَہَبٍ اَوْ فِضَّةٍ۔‘‘ (ابوداؤد ج:۲ ص:۱۲۵، شرح معانی الآثار و طحاوی ص:۲۱۵)
ترجمہ:۔ ’’سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: لوگ اپنی زمین مزارعت پر دیا کرتے تھے، شرط یہ ہوتی تھی کہ جو پیداوار (الساقیہ) پر ہوگی اور جو کنویں کے گرد و پیش پانی سے سیراب ہوگی وہ ہم لیا کریں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہی فرمائی اور فرمایا: سونے چاندی پر دیا کرو۔‘‘
اس قسم کی مزارعت کو جیسا کہ اِمام لیث سعدؒ نے فرمایا، حلال و حرام کی فہم رکھنے والا کوئی شخص حلال نہیں کہہ سکتا۔
جس شخص نے اسلام کے معاملاتی نظام کا صحیح نظر سے مطالعہ کیا ہو اسے معلوم ہوگا کہ شریعت نے بعض معاملات کو ان کے ذاتی خبث کی وجہ سے ممنوع قرار دیا ہے، بعض کو غیرمنصفانہ قیود و شرائط کی وجہ سے، اور بعض کو اس وجہ سے کہ ان میں اکثر منازعات و مناقشات کی نوبت آسکتی ہے۔ مزارعت کی یہ صورتیں جن غلط قیود و شرائط پر ہوتی تھیں ان میں لڑائی جھگڑے کی صورتیں کھڑی ہوجاتی تھیں۔ اس لئے ان کی ممانعت قرینِ مصلحت ہوئی، چنانچہ جب حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو علم ہوا کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ مزارعت سے منع کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا:
’’یَغْفِرُ اللہُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ، اَنَا وَاللہِ! اَعْلَمُ بِالْحَدِیْثِ مِنْہُ، اِنَّمَا رَجُلَانِ - قَالَ مُسَدَّدٌ: مِنَ الْاَنْصَارِ ثُمَّ اتَّفَقَا - قَدِ اقْتَتَلَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنْ کَانَ ہٰذَا شَاْنُکُمْ فَلَا تُکْرُوا الْمَزَارِعَ۔‘‘ (ابوداؤد ج:۲ ص:۴۸۱، ابنِ ماجہ ص:۱۷۷)
ترجمہ:۔ ’’ اللہ تعالیٰ رافع کی مغفرت فرمائے، بخدا! میں اس حدیث کو ان سے بہتر سمجھتا ہوں، قصہ یہ ہوا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انصار کے دو شخص آئے جن کے درمیان مزارعت کا جھگڑا تھا، اور نوبت مرنے مارنے تک پہنچ گئی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جب تمہاری یہ حالت ہے تو تم مزارعت کا معاملہ نہ کیا کرو۔‘‘
’’عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ اَصْحٰبُ الْمَزَارِعِ یُکْرُوْنَ فِیْ زَمَانِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَزَارِعَہُمْ بِمَا یَکُوْنُ عَلَی السَّاقِ مِنَ الزَّرْعِ فَجَاءُوْا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاخْتَصَمُوْا فِیْ بَعْضِ ذٰلِکَ، فَنَہَاہُمْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یُّکْرُوْا بِذٰلِکَ وَقَالَ: اِکْرُوْا بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ۔‘‘ (نسائی ج:۲ ص:۱۵۳)
ترجمہ:۔ ’’سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمین دار اپنی زمین اس پیداوار کے عوض دیا کرتے تھے جو نہروں اور گولوں پر ہوتی تھیں، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور مزارعت کے سلسلے میں جھگڑا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسی مزارعت نہ کیا کرو، بلکہ سونے چاندی کے عوض دیا کرو۔‘‘
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مطلق مزارعت کے معاملے سے ممانعت نہیں فرمائی گئی تھی بلکہ یہ ممانعت خاص ان صورتوں سے متعلق تھی جن میں غلط شرائط کی وجہ سے نزاع و اختلاف کی نوبت آتی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ زمین کو زَرِ نقد پر ٹھیکے پر دینے کی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی۔ اس لئے فاضل مضمون نگار کا یہ نظریہ سرے سے باطل ہوجاتا ہے کہ: ’’ایسے تمام معاملات، جن میں بغیر کسی محنت کے منافع حاصل ہوتا ہے، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’سود‘‘ قرار دیا۔‘‘ اگر مزارعت کی ممانعت کا سبب یہ ہوتا کہ اس میں بغیر محنت کے منافع حاصل ہوتا ہے تو یہ علت تو زمین کو ٹھیکے اور مستأجری پر دینے میں بھی پائی جاتی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت کیونکر دے سکتے تھے۔
الغرض! فاضل مضمون نگار جس نظریے کو اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر رہے ہیں اور جس پر جدید دور کے لادِین ماہرینِ معاشیات کو بطور سند پیش فرما رہے ہیں، اسلام سے اس کا دُور کا بھی کوئی واسطہ نہیں، اور نہ ان احادیث کا یہ مفہوم ہے جو موصوف نے اپنے نظریے کی تائید میں نقل کی ہیں۔ یہ بڑی سنگین بات ہے کہ ایک اُلٹا سیدھا مفروضہ قائم کرکے اسے جھٹ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیا جائے، اور لوگوں کو باور کرایا جائے کہ یہی اسلام کا نظریہ ہے، جسے نہ صحابہ کرامؓ نے سمجھا، نہ تابعینؒ نے، اور نہ بعد کے اکابرینِ اُمت نے!
یہاں یہ عرض کردینا بھی ضروری ہے کہ مزارعت کا معاملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کے دور سے آج تک مسلمانوں کے درمیان رائج چلا آتا ہے، اِمام بخاری رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
’’عَنْ اَبِیْ جَعْفَرٍ رَحِمَہُ اللہُ قَالَ: مَا بِالْمَدِیْنَةِ اَہْلُ بَیْتِ ہِجْرَةٍ لَا یَزْرَعُوْنَ عَلَی الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، وَزَارَعَ عَلِیٌّ وَّسَعْدُ بْنُ مَالِکٍ وَّعَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ وَّعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ وَالْقَاسِمُ وَعُرْوَةُ وَاٰلُ اَبِیْ بَکْرٍ وَّاٰلُ عُمَرَ وَّاٰلُ عَلِیٍّ وَّابْنُ سِیْرِیْنَ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْاَسْوَدِ: کُنْتُ اُشَارِکُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ یَزِیْدَ فِی الزَّرْعِ، وَعَامَلَ عُمَرُ النَّاسَ عَلٰی اِنْ جَاءَ عُمَرُ بِالْبَذْرِ مِنْ عِنْدِہٖ فَلَہُ الشَّطْرُ وَاِنْ جَاءُوْا بِالْبَذْرِ فَلَہُمْ کَذَا۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۱۳)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: مدینہ طیبہ میں مہاجرین کا کوئی خاندان ایسا نہیں تھا جو بٹائی کا معاملہ نہ کرتا ہو۔ حضرت علیؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ، حضرت قاسمؒ، حضرت عروہؓ، حضرت ابوبکرؓ کا خاندان، حضرت عمرؓ کا خاندان، حضرت علیؓ کا خاندان، ابنِ سیرینؒ ان سب نے مزارعت کا معاملہ کیا۔ عبدالرحمن بن اسودؒ کہتے ہیں کہ میں عبدالرحمن بن یزیدؓ سے کھیتی میں شراکت کیا کرتا تھا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے اس طرح معاملہ کرتے تھے کہ اگر حضرت عمرؓ بیج اپنے پاس سے دیں تو نصف پیداوار ان کی ہوگی، اور اگر کاشتکار بیج خود ڈالیں تو ان کا اتنا حصہ ہوگا۔‘‘
انصاف کیا جائے کہ کیا یہ تمام حضرات، رفیع اللہ شہاب صاحب کے بقول ’’سودخور‘‘ اور خدا اور رسول سے جنگ کرنے والے تھے؟
زمین کی خرید و فروخت:
فاضل مضمون نگار نے زمین کی خرید و فروخت کو بھی ’’سودی کاروبار‘‘ شمار کیا ہے، اور اس لئے انہوں نے ایک عجیب و غریب کہانی تصنیف فرمائی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
’’بہت سے صحابہ کرامؓ کے پاس اپنی خود کاشت سے زائد زمین تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی بٹائی کے معاملے کو سود قرار دیا تو انہوں نے اس کو بیچنے کا پروگرام بنایا، لیکن جب انہوں نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے اس زائد زمین کو بیچنے کی اجازت نہ دی، بلکہ فرمایا کہ: اپنے ضرورت مند بھائیوں کو مفت دے دو۔ اپنی زمین کسی کو مفت دینا آسان نہ تھا، اس لئے اکثر صحابہؓ نے بار بار اس سلسلے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے دریافت فرمائی اور آپ نے ہر بار یہی جواب دیا، بخاری شریف اور مسلم میں اس مضمون کی کئی احادیث ہیں۔‘‘
شہاب صاحب نے اپنی تصنیف کردہ کہانی کے لئے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی کئی احادیث کا حوالہ دیا ہے، حالانکہ یہ ساری کی ساری داستان موصوف کی اپنی طبع زاد ہے، صحیح بخاری و صحیح مسلم کی کسی حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ:
الف:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بٹائی کو سود قرار دیا تھا۔
ب:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو سن کر صحابہ کرامؓ نے فاضل اراضی کے فروخت کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔
ج:۔ انہوں نے اپنا یہ پروگرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرکے آپ سے زمین فروخت کرنے کی اجازت چاہی تھی۔
د:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس پروگرام کو مسترد کردیا تھا اور زمین فروخت کرنے کی ممانعت فرمادی تھی۔
ہ:۔ باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین فروخت کرنے سے صریح ممانعت فرمادی تھی اور اس کو سود قرار دے دیا تھا، لیکن صحابہ کرامؓ بار بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت طلب کرتے تھے، اور ہر بار ان کو یہی جواب ملتا تھا۔
فاضل مضمون نگار نے ۔۔۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالے سے۔۔۔ اس کہانی میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی سیرت و کردار کا جو نقشہ کھینچا ہے، کیا عقلِ سلیم اس کو قبول کرتی ہے؟
سب جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مہاجرین رُفقاء کے ساتھ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے ہیں تو مدینہ طیبہ کی اراضی کے مالک انصارؓ تھے، ان حضرات کا کردار زمینوں کے معاملے میں کیا تھا؟ اس سلسلے میں صحیح بخاری سے دو واقعات نقل کرتا ہوں:
’’عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَتِ الْاَنْصَارُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِقْسِمْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ اِخْوَانِنَا النَّخِیْلَ، قَالَ: لَا، فَقَالُوْا: فَتَکْفُوْنَا الْمَؤُنَةَ وَنُشْرِکُکُمْ فِی الثَّمَرَةِ، قَالُوْا: سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۱۲)
اوّل:۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضراتِ انصارؓ نے یہ درخواست کی کہ ہمارے یہ باغات ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کردیجئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم کام کیا کرو اور ہمیں پیداوار میں شریک کرلیا کرو، سب نے کہا: سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۔
’’عَنْ یَحْیٰی بْنِ سَعِیْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسًا رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: اَرَادَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّقْطَعَ مِنَ الْبَحْرَیْنِ فَقَالَتِ الْاَنْصَارُ: حَتّٰی تَقْطَعَ لِاِخْوَانِنَا مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ مِثْلَ الَّذِیْ تَقْطَعُ لَنَا ۔۔۔الخ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۲۰)
دوم:۔ یہ کہ جب بحرین کا علاقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرِ نگیں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلاکر انہیں بحرین کے علاقے میں قطعاتِ اراضی (جاگیریں) دینے کی پیشکش فرمائی، اس پر حضراتِ انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب تک آپ اتنی ہی جاگیریں ہمارے مہاجر بھائیوں کو عطا نہیں کرتے، ہم یہ قبول نہیں کرتے۔
کیا انہیں حضراتِ انصارؓ کے بارے میں شہاب صاحب یہ داستان سرائی فرما رہے ہیں کہ: ’’سود کی حرمت سن کر انہوں نے اپنی زمین فروخت کرنے کا پروگرام بنایا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح ممانعت کے باوجود وہ اس سودخوری پر مصر تھے‘‘؟ کیا ستم ہے کہ جن ’’انصارِ اسلام‘‘ نے خدا اور رسول کی رضا کے لئے اپنا سب کچھ لٹادیا تھا، ان پر ایسی گھناؤنی تہمت تراشی کی جاتی ہے!
خلاصہ یہ کہ زمین کی خرید و فروخت کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعاً ممانعت نہیں فرمائی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے آج تک زمینوں کی خرید و فروخت ہوتی رہی ہے اور کبھی کسی نے اس کو ’’سود‘‘ قرار نہیں دیا۔
فاضل مضمون نگار نے ’’نیل الاوطار‘‘ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے کہ:
’’بعض اصحابِ رسول کے پاس فاضل اراضی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس زمین ہو وہ یا تو خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو بخش دے، اور اگر انکار کرے تو اپنی زمین کو روک رکھے۔‘‘
یہ حدیث صحیح ہے، مگر اس سے نہ مزارعت کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، اور نہ زمینوں کی خرید و فروخت کا ناجائز ہونا ثابت ہوتا ہے، چنانچہ صحیح بخاری و مسلم میں جہاں یہ حدیث ذکر کی گئی ہے، وہاں اس کی شرح بھی بایں الفاظ موجود ہے:
’’قَالَ عَمْرٌو: قُلْتُ لِطَاوٗسٍ: لَوْ تَرَکْتَ الْمُخَابَرَةَ فَاِنَّہُمْ یَزْعُمُوْنَ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْہُ، قَالَ: اَیْ عَمْرُو! فَاِنِّیْ اُعْطِیْہِمْ وَاُعِیْنُہُمْ وَاِنَّ اَعْلَمَہُمْ اَخْبَرَنِیْ یَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَنْہَ عَنْہُ، وَلٰکِنْ قَالَ: اَنْ یَّمْنَحَ اَحَدُکُمْ اَخَاہُ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ اَنْ یَّاْخُذَ عَلَیْہِ خَرْجًا مَّعْلُوْمًا۔‘‘ (صحیح بخاری ص:۳۱۳، صحیح مسلم ج:۲ ص:۱۴)
ترجمہ:۔ ’’عمرو بن دینارؒ کہتے ہیں کہ: میں نے حضرت طاؤسؒ سے کہا کہ: آپ بٹائی کے معاملے کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اے عمرو! میں غریب کسانوں کو زمین دے کر ان کی اعانت کرتا ہوں، اور لوگوں میں جو سب سے بڑے عالم ہیں، یعنی حضرت عبداللہ بن عباسؓ انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت نہیں فرمائی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تم میں کا ایک شخص اپنے بھائی کو اپنی زمین بغیر معاوضے کے کاشت کے لئے دے دے یہ اس کے لئے بہتر ہے بجائے اس کے کہ اس پر کچھ مقرّرہ معاوضہ وصول کرے۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ایثار و مواسات کی تعلیم کے لئے تھا، چنانچہ اِمام بخاریؒ نے ان احادیث کو حسبِ ذیل عنوان کے تحت درج فرمایا ہے:
’’بَابُ مَا کَانَ اَصْحٰبُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوَاسِیْ بَعْضُہُمْ بَعْضًا فِی الْمُزَارَعَةِ۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’اس کا بیان کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرامؓ زراعت کے بارے میں ایک دُوسرے کی کیسے غم خواری کرتے تھے۔‘‘
اس حدیث کی نظیر ایک دُوسری حدیث ہے جو صحیح مسلم میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
’’بَیْنَمَا نَحْنُ فِیْ سَفَرٍ مَّعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذْ جَاءَہٗ رَجُلٌ عَلٰی رَاحِلَةٍ لَّہٗ قَالَ: فَجَعَلَ یَصْرِفُ بَصَرَہٗ یَمِیْنًا وَّشِمَالًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ کَانَ مَعَہٗ فَضْلُ ظَہْرٍ فَلْیَعُدْ بِہٖ عَلٰی مَنْ لَّا ظَہْرَ لَہٗ، وَمَنْ کَانَ لَہٗ فَضْلٌ مِّنْ زَادٍ فَلْیَعُدْ بِہٖ عَلٰی مَنْ لَّا زَادَ لَہٗ، قَالَ: فَذَکَرَ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَکَرَ حَتّٰی رَاَیْنَا اَن لَّا حَقَّ لِاَحَدٍ مِّنَّا فِیْ فَضْلٍ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۸۱)
ترجمہ:۔ ’’ہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک آدمی ایک اُونٹنی پر سوار ہوکر آیا اور دائیں بائیں نظر گھمانے لگا، (وہ ضرورت مند ہوگا) پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زائد سواری ہو وہ ایسے شخص کو دے ڈالے جس کے پاس سواری نہیں، اور جس کے پاس زائد توشہ ہو وہ ایسے شخص کو دے دے جس کے پاس توشہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی انداز میں مختلف چیزوں کا تذکرہ فرمایا، یہاں تک کہ ہم کو یہ خیال ہوا کہ زائد چیز میں ہم میں سے کسی کا حق نہیں ہے۔‘‘
بلاشبہ یہ اعلیٰ ترین مکارمِ اخلاق کی تعلیم ہے، اور مسلمانوں کو اسی اخلاقی بلندی پر ہونا چاہئے، لیکن کون عقل مند ہوگا جو یہ دعویٰ کرے کہ اسلام میں زائد اَز حاجت چیز کا رکھنا یا اسے فروخت کرنا ہی ممنوع و حرام ہے؟ ٹھیک اسی طرح اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی یا کرایہ پر دینے کے بجائے اپنے ضرورت مند بھائیوں کو مفت دینے کی تعلیم فرمائی تو یہ اخلاق و مروّت اور غم خواری و مواسات کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے، لیکن اس سے یہ نکتہ کشید کرنا کہ اسلام، زمین کی بٹائی کو یا اس کی خرید و فروخت کو ’’سود‘‘ قرار دیتا ہے، بہت بڑی جرأت ہے!
سخن شناس نہ دلبرا! خطا ایں جا است
مکانوں کا کرایہ:
فاضل مضمون نگار کے نظریہ کے مطابق مکانوں کا کرایہ بھی ’’سود‘‘ ہے، اس لئے انہوں نے یہ افسانہ تراشا ہے کہ:
’’اس زمانے میں (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) زمین ہی سرمایہ داری کا بڑا ذریعہ تھا، سرمایہ داری کا دُوسرا بڑا ذریعہ کرایہ کے مکانات تھے، یہ مکان زیادہ تر مکہ شریف میں واقع تھے، کیونکہ وہ ایک بین الاقوامی شہر تھا، جہاں لوگ حج اور تجارت کے مقاصد کے لئے آتے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف کے مکانوں کا کرایہ بھی سود قرار دے کر مسلمانوں کو اس سے منع کردیا، اور فرمایا کہ جس نے مکہ شریف کی دُکانوں کا کرایہ کھایا اس نے گویا سود کھایا۔‘‘
موصوف کا یہ افسانہ بھی حسبِ عادت خود تراشیدہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سرمایہ داری کا ذریعہ نہ زمین تھی، نہ مکانوں کا کرایہ تھا، چنانچہ مدینہ طیبہ میں زمینوں کے مالک حضراتِ انصارؓ تھے، مگر ان میں سے کسی کا نام نہیں لیا جاسکتا کہ وہ سرمایہ داری میں معروف تھا، اس کے برعکس حضرت عثمان غنی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی خاصے متمول تھے، حالانکہ وہ اس وقت نہ کسی زمین کے مالک تھے، نہ ان کی کرائے کی دُکانیں تھیں، اور اہلِ مکہ میں بھی کسی ایسے شخص کا نام نہیں لیا جاسکتا جو محض کرائے کے مکانوں کی وجہ سے ’’سرمایہ دار‘‘ کہلاتا ہو، تعجب ہے کہ موصوف ہر جگہ افسانہ تراشی سے کام لیتے ہیں!
پھر یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اگر زمین کی ملکیت سرمایہ داری کا ذریعہ تھی اور شہاب صاحب کے بقول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے اَحکام سرمایہ داری ہی کے مٹانے کے لئے دئیے تھے تو سوال یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیم کو جاگیریں کیوں مرحمت فرمائی تھیں؟ اگر ان کے اس فرضی افسانے کو تسلیم کرلیا جائے کہ اس زمانے میں زمین ہی سرمایہ داری کا سب سے بڑا ذریعہ تھی تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سرمایہ داری کو فروغ دینے کا الزام عائد نہیں ہوگا؟
موصوف کا یہ کہنا کہ: ’’کرائے کے مکان سب سے زیادہ مکہ مکرّمہ ہی میں تھے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرّمہ کے مکانوں کا کرایہ لینے سے منع فرمادیا‘‘ یہ بھی محض مہمل بات ہے۔ اگر یہ حکم تمام شہروں کے لئے ہوتا تو صرف مکہ مکرّمہ کی تخصیص کیوں کی جاتی؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کرایہ داری سے مطلقاً منع فرماسکتے تھے۔
موصوف نے ’’ہدایہ‘‘ کے حوالے سے جو حدیث نقل کی ہے، اس کا وجود حدیث کی کسی کتاب میں نہیں، اور ’’ہدایہ‘‘ کوئی حدیث کی کتاب نہیں کہ کسی حدیث کے لئے صرف اس کا حوالہ کافی سمجھا جائے۔ اہلِ علم جانتے ہیں کہ ’’ہدایہ‘‘ میں بہت سی روایات بالمعنی نقل ہوئی ہیں، اور بعض ایسی بھی جن کا حدیث کی کتابوں میں کوئی وجود نہیں۔
اور اگر بالفرض کوئی حدیث مکہ مکرّمہ کے بارے میں وارِد بھی ہو تو کون عقل مند ہوگا جو مکہ مکرّمہ کے مخصوص اَحکام کو دُوسری جگہ ثابت کرنے لگے۔ مکہ کی حدود میں درخت کاٹنا اور پھول توڑنا بھی ممنوع ہے اور اس پر جزا لازم آتی ہے۔ وہاں شکار کرنا بھی حرام ہے، کیا ان اَحکام کو دُوسری جگہ بھی جاری کیا جائے گا؟ مکہ مکرّمہ کی حرمت کے پیشِ نظر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کے مکانوں کے کرایہ پر چڑھانے کو بھی ناپسند فرمایا ہو تو کون کہہ سکتا ہے کہ یہی حکم باقی شہروں کا بھی ہے؟
جہاں تک مکہ مکرّمہ کے مکانات کرائے پر چڑھانے کا حکم ہے، اس پر اتفاق ہے کہ موسمِ حج کے علاوہ مکہ مکرّمہ کے مکانات کرائے پر دینا جائز ہے،(۲) البتہ بعض حضرات موسمِ حج میں اس کو پسند نہیں فرماتے تھے،(۳) انہی میں ہمارے اِمام ابوحنیفہؒ بھی شامل ہیں۔ لیکن جمہور اَئمہ کے نزدیک موسمِ حج میں بھی مکانات کرائے پر چڑھانا دُرست ہے۔ ہمارے اَئمہ میں اِمام ابویوسفؒ اور اِمام محمدؒ بھی اسی کے قائل ہیں،(۴) اور فقہِ حنفی میں فتویٰ بھی اسی قول پر ہے۔ مکہ مکرّمہ کے علاوہ دُوسرے شہروں میں مکان کرایہ پر دینا سب کے نزدیک جائز ہے۔
آڑھت:
آڑھت اور دلالی کو سود قرار دینے کے لئے موصوف نے ’’نیل الاوطار‘‘ جلد:۵ صفحہ:۱۷۴ کے حوالے سے یہ کہانی درج فرمائی ہے:
’’حدیث کی کتابوں میں مذکور ہے کہ ان اَحکامات کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاروباری مقامات پر تشریف لے گئے، اور مختلف قسم کے کاروبار کی تفصیلات دریافت کیں اور ایسے تمام معاملات کو کہ جن میں بغیر کسی محنت کے منافع حاصل ہوتا ہے، مثلاً: آڑھت کا کاروبار، اسے آپ نے سود قرار دے دیا۔‘‘
’’نیل الاوطار‘‘ کے نہ صرف محولہ بالا صفحے میں، بلکہ اس سے متعلقہ تمام اَبواب میں بھی کہیں یہ کہانی درج نہیں کہ سود کے اَحکامات نازل ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاروبار کی تفصیلات معلوم کرنے کے لئے بازار تشریف لے گئے ہوں اور ایسے تمام معاملات کو جن میں بغیر محنت کے سرمایہ حاصل ہوتا ہے، آپ نے سود قرار دے دیا ہو۔ فاضل مضمون نگار کو غلط مفروضے گھڑنے اور ان کے لئے فرضی کہانیاں تصنیف کرنے کا اچھا ملکہ ہے۔ یہاں بھی انہوں نے ایک عدد کہانی تصنیف فرمائی، حالانکہ اگر ذرا بھی تأمل سے کام لیتے تو انہیں واضح ہوجاتا کہ یہ کہانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے حالات سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی۔ اوّل تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کاروبار کی ان صورتوں سے واقف تھے جو اکثر و بیشتر رائج تھیں، علاوہ ازیں تمام کاروباری حضرات بارگاہِ نبوی کے حاضرباش تھے، ان کے شب و روز اور سفر و حضر صحبتِ نبوی میں گزرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے دریافت فرماسکتے تھے کہ ان کے ہاں کون کون سی صورتیں رائج ہیں۔ محض کاروبار کی تفصیلات معلوم کرنے کے لئے آپ کو بازار جانے کی زحمت کی ضرورت نہ تھی، اتفاقاً کبھی بازار کی طرف گزر ہوجانا دُوسری بات ہے۔
اور موصوف کا یہ ارشاد کہ: ’’آپ نے تمام ایسے معاملات کو جن میں بغیر محنت کے سرمایہ حاصل ہوتا ہے، سود قرار دے دیا‘‘ یہ بھی موصوف کا خود تصنیف کردہ نظریہ ہے، جسے وہ زبردستی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر رہے ہیں۔
جہاں تک ’’آڑھت‘‘ کا تعلق ہے جسے موصوف اپنے تصنیف کردہ نظریے کے مطابق ’’سود‘‘ فرما رہے ہیں، حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’آڑھت‘‘ کو ’’تجارت‘‘ اور ’’آڑھتیوں‘‘ کو ’’تاجر‘‘ فرمایا ہے، چنانچہ جامع ترمذی میں بہ سندِ صحیح حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
’’خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُسَمَّی السَّمَاسِرَةَ فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ! اِنَّ الشَّیْطَانَ وَالْاِثْمَ یَحْضُرَانِ الْبَیْعَ فَشُوْبُوْا بَیْعَکُمْ بِالصَّدَقَةِ۔ قَالَ التِّرْمِذِیُّ: حَدِیْثُ قَیْسِ بْنِ اَبِیْ غَرَزَةَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔‘‘(ترمذی ج:۱ ص:۱۴۵، مطبوعہ مجتبائی دہلی)
ترجمہ:۔ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں آڑھتی اور دلال کہا جاتا تھا، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں شیطان اور گناہ بھی شامل ہوجاتے ہیں، اس لئے اپنی خرید و فروخت میں صدقہ کی آمیزش کیا کرو۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آڑھت کو بھی تجارت کی مد میں شمار فرمایا ہے، کیونکہ آڑھتی یا بائع (بیچنے والا) کا وکیل ہوگا، یا مشتری (خریدنے والا) کا، دونوں صورتوں میں اس کا تاجر ہونا واضح ہے۔
البتہ احادیث طیبہ میں آڑھت کی ایک خاص صورت کی ممانعت ضرور فرمائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ کوئی دیہاتی فروخت کرنے کے لئے کوئی چیز بازار میں لائے اور وہ اسے آج ہی کے نرخ پر فروخت کرنا چاہتا ہو، لیکن کوئی شہری اس سے یوں کہے کہ میاں تم یہ چیز میرے پاس رکھ جاؤ، جب یہ چیز مہنگی ہوگی تو میں اس کو فروخت کردُوں گا، اس کی ممانعت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَلَقَّوُا الرُّکْبَانَ وَلَا یَبِیْعُ حَاضِرٌ لِّبَادٍ، فَقِیْلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُہٗ: لَا یَبِیْعُ حَاضِرٌ لِّبَادٍ؟ قَالَ: لَا یَکُوْنُ لَہٗ سِمْسَارًا۔‘‘(نیل الاوطار ج:۵ ص:۱۶۴)
ترجمہ:۔ شہر سے باہر نکل کر تجارتی قافلوں کا مال نہ خریدا کرو، اور کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا کہ: کوئی شہری، دیہاتی کے لئے دلال نہ بنے۔‘‘
اس حدیث کے ذیل میں شوکانی لکھتے ہیں:
’’حنفیہ کا قول ہے کہ یہ ممانعت اس صورت کے ساتھ خاص ہے جبکہ گرانی کا زمانہ ہو اور وہ چیز ایسی ہے کہ اہلِ شہر کو اس کی ضرورت ہے۔ شافعیہ اور حنابلہ کہتے ہیں کہ ممنوع صورت یہ ہے کہ کوئی شخص شہر میں سامان لائے وہ اسے آج کے نرخ پر آج بیچنا چاہتا ہے لیکن کوئی شہری اس سے یہ کہے کہ تم اسے میرے پاس رکھ دو، میں اسے زیادہ داموں پر تدریجاً فروخت کردُوں گا۔ اِمام مالکؒ سے منقول ہے کہ دیہاتی کے حکم میں صرف وہی شخص آتا ہے جو دیہاتی کی طرح بازار کے نرخ سے بے خبر ہو، لیکن دیہات کے جو لوگ بازار کے بھاؤ سے واقف ہیں وہ اس حکم میں داخل نہیں (یعنی ان کی چیز شہری کے لئے فروخت کرنا دُرست ہے)۔‘‘
ابنِ منذرؒ نے جمہور سے نقل کیا ہے کہ یہ نہی تحریم کے لئے اس وقت ہے جبکہ:
۱:۔ بائع عالم ہو۔
۲:۔ سامان ایسا ہو کہ اس کی ضرورت عام اہلِ شہر کو ہے۔
۳:۔ بدوی نے وہ سامان اَز خود شہری کو پیش نہ کیا ہو۔(۵)
اس پوری تفصیل سے معلوم ہوجاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشادِ گرامی کا منشا کیا ہے اور فقہائے اُمت نے اس سے کیا سمجھا ہے۔
شہری کو دیہاتی کا سامان فروخت کرنے کی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی اس کی وجہ بھی وہ نہیں جو ہمارے فاضل مضمون نگار بتارہے ہیں، (یعنی بغیر محنت کے سرمایہ کا حصول)، بلکہ اس کی وجہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمادی ہے:
’’عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا یَبِیْعُ حَاضِرٌ لِّبَادٍ دَعُوا النَّاسَ یَرْزُقِ اللہُ بَعْضَہُمْ مِّنْ بَعْضٍ۔ رَوَاہُ الْجَمَاعَةُ اِلَّا الْبُخَارِیَّ۔‘‘(نیل الاوطار ج:۵ ص:۲۶۳)
ترجمہ:۔ ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے۔ لوگوں کو چھوڑ دو کہ اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے رزق پہنچائے۔‘‘
مطلب یہ کہ دیہاتی لوگ آکر شہر میں مال خود فروخت کریں گے تو اس سے ارزانی پیدا ہوگی، لیکن اگر شہری لوگ ان سے مال لے کر رکھ لیں اور مہنگا ہونے پر فروخت کریں تو اس سے مصنوعی قلّت اور گرانی پیدا ہوگی۔
فرمائیے! اس ارشادِ مقدس میں فاضل مضمون نگار کے نظریے کا دُور دُور بھی کہیں کوئی سراغ ملتا ہے؟
بینک کا سود:
عجیب بات ہے کہ ہمارے فاضل مضمون نگار ایک طرف ’’سود کی مصطفوی تشریح‘‘ کے ذریعہ ایسے معاملات ناجائز قرار دے رہے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ و تابعینؒ کے دور سے آج تک بغیر کسی نکیر کے رائج چلے آتے ہیں۔ لیکن دُوسری طرف بینک کے سود کو، جس کی حرمت میں کسی ادنیٰ مسلمان کو بھی شک نہیں ہوسکتا، بہت ہی معصوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اگر موصوف کا بس چلے تو وہ اس کے حلال ہونے ہی کا فتویٰ دے ڈالیں، موصوف بینک کے سود کی جس طرح وکالت فرماتے ہیں، اس کا ایک منظر ملاحظہ فرمائیے:
’’عام طور پر ہمارے بینک کی جانب سے ملنے والے منافع کو سود سمجھا جاتا ہے ۔۔۔ جب سود کے اَحکام نازل ہوئے تھے اس وقت بینک نام کی کوئی چیز نہ تھی۔‘‘
گویا بینک کی طرف سے ملنے والا منافع بہت ہی معصوم ہے، لوگ خواہ مخواہ اس کو سود سمجھ رہے ہیں۔ اور مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں:
’’یہ دونوں معاملات (یعنی زمین اور کرائے کے مکانات) ایسے ہیں کہ ان میں لگائے ہوئے سرمائے کی قیمت دن بدن بڑھتی رہتی ہے، جبکہ بینک میں جمع شدہ رقم کی قیمت دن بدن گھٹتی جاتی ہے، اس لئے مذکورہ بالا دونوں معاملات کا ’’سود‘‘ بینک کے سود سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہے۔‘‘
موصوف کی منطق یہ ہے کہ بینک سے جو ’’منافع‘‘ ملتا ہے، وہ تو بہت معمولی ہے اور پھر اس رقم کی قوّتِ خرید بھی کم ہوتی رہتی ہے، لیکن زمین اور مکانوں سے جو کرایہ ملتا ہے، جو بینک کے سود کے مقابلے میں کافی زیادہ ہوتا ہے، اور پھر زمین اور مکانوں کی قیمت دن بدن گھٹتی نہیں بڑھتی ہے، اس لئے بینک کا ’’منافع‘‘ حرام ہے، تو زمین اور مکانوں کا کرایہ اس سے بڑھ کر حرام ہونا چاہئے۔ یہ ’’سود‘‘ کو حلال ثابت کرنے کی ٹھیک وہی دلیل ہے جو قرآنِ کریم نے کفار کی زبانی نقل کی ہے: ﵟ إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْۗ ﵞکہ اگر سودی کاروبار میں نفع ہوتا ہے تو بیع میں اس سے بڑھ کر نفع ہوتا ہے، لہٰذا اگر سودی کاروبار حرام ہے تو بیع بھی حرام ہونی چاہئے، اور اگر بیع حلال ہے تو سود کیوں حرام ہے؟ قرآنِ کریم نے جو جواب آپ کے پیشروؤں کو دیا تھا، وہی جواب موصوف کی خدمت میں پیش کرتا ہوں:
ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱرِّبَوٰاْۚ ﵞ البقرة ٢٧٥
ترجمہ:۔ ’’حالانکہ حلال کیا ہے اللہ نے بیع کو اور حرام کیا ہے سود کو‘‘
اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں بحث یہ نہیں کہ کس صورت میں نفع زیادہ ہوتا ہے اور کس میں کم؟ بلکہ بحث اس میں ہے کہ کون سی صورت شرعاً جائز اور صحیح ہے، اور کون سی باطل اور حرام؟ فاضل مضمون نگار سے درخواست ہے کہ وہ زمین اور مکان کے کرائے کا حرام ہونا شرعی دلائل سے ثابت فرمائیں، خود تصنیف کردہ کہانیوں سے نہیں۔ تو ہمیں اس کے حرام ہونے کا فتویٰ دینے میں کوئی تأمل نہیں ہوگا، لیکن یہ دلیل کہ فلاں کاروبار میں نفع زیادہ ہوتا ہے اور فلاں میں کم! پس اگر کم نفع کا معاملہ حرام ہے تو زیادہ نفع کا معاملہ کیوں حرام نہیں؟ یہ دلیل محض بچگانہ ہے، سب کو معلوم ہے کہ دس ہزار کی رقم کو اگر بینک میں رکھ دیا جائے تو اس پر اتنا سود نہیں ملے گا جس قدر منافع کہ اس رقم کو کسی صحیح تجارت میں لگانے سے ہوگا۔ اگر موصوف کی دلیل کو یہاں بھی جاری کردیا جائے تو کل وہ یہ فتویٰ بھی صادر فرمائیں گے کہ کسی نفع بخش تجارت میں روپیہ لگانا بھی حرام اور سود ہے۔ کیونکہ اس سے بینک کے سود کی شرح سے زیادہ منافع حاصل ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ عقلِ سلیم نصیب فرمائے!
فاضل مضمون نگار کی خدمت میں چند معروضات:
جناب رفیع اللہ شہاب کے مضمون سے متعلقہ مسائل کی وضاحت تو ہوچکی، جی چاہتا ہے کہ آخر میں موصوف کی خدمت میں چند دردمندانہ معروضات اور مخلصانہ گزارشات پیش کردی جائیں، اُمید ہے کہ وہ ان گزارشات کو جذبۂ اِخلاص پر محمول کرتے ہوئے ان کی طرف توجہ فرمائیں گے۔
اوّل:۔ کوئی شخص نظریات ماں کے پیٹ سے لے کر پیدا نہیں ہوتا، بلکہ شعور و احساس کے بعد جیسی تعلیم و تربیت ہو اور جیسا ماحول آدمی کو میسر آئے اس کا ذہن اسی قسم کے نظریات میں ڈھل جاتا ہے، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں اسی مضمون کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے:
’’کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُّوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ۔‘‘(صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۵)
ترجمہ:۔ ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی بنادیتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔‘‘
آپ محنت اور سرمایہ کے بارے میں جو نظریات پیش فرماتے ہیں، یا اس قسم کے دیگر نظریات جو وقتاً فوقتاً جناب کے قلم سے نکلتے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ اس تعلیم و تربیت اور ماحول کا اثر ہے جس میں آپ نے شعور کی آنکھ کھولی، اور جس کا رنگ اور مزاج آپ کے افکار و نظریات پر اثر انداز ہوا۔ آپ کو ایک بار مخلی بالطبع ہوکر اس پر غور کرنا چاہئے کہ یہ ماحول، اور یہ تعلیم و تربیت آیا دِینی اقدار کی حامل تھیں یا نہیں؟ یہ ایک معیار اور کسوٹی ہے جس سے آپ اپنے نظریات کی صحت و سقم کو پَرکھ سکتے ہیں۔ دورِ جدید کے جو حضرات جدید نظریات پیش کرتے ہیں، ان کے نظریات اکثر و بیشتر اجنبی ماحول اور غیرقوموں کی تعلیم و تربیت کی پیداوار ہوتے ہیں، بعد میں وہ ان نظریات کے لئے قرآن و حدیث کے حوالے بھی دینے لگتے ہیں، گو وہ نظریہ قرآن و حدیث نے نہیں دیا تھا، نظریہ باہر سے لایا گیا، بعد میں قرآن و حدیث کو اس پر منطبق کرنے کی کوشش کی گئی، یہ طرزِ فکر لائقِ اصلاح ہے۔ ایک مسلمان کا شیوہ یہ ہے کہ وہ تمام خارجی و بیرونی افکار سے خالی الذہن ہوکر دِینی نظریات کو اپنائے اور اس کے لئے قرآن و سنت کی سند لائے، وَاللہُ الْمُوَفِّقُ!
دوم:۔ یوں تو پاکستان میں نظریاتی آزادی ہے، جو شخص جیسا نظریہ چاہے رکھے، کوئی روک ٹوک نہیں۔ اور آج کے دور میں کاغذ و قلم کی فراوانی اور پریس کی سہولت بھی عام ہے۔ جیسے نظریات بھی کوئی پھیلانا چاہے بڑی آزادی سے پھیلاسکتا ہے۔ لیکن کسی نظریے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بات منسوب کرنا بہت ہی سنگین جرم ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی تواتر سے مروی ہے:
’’مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۷)
ترجمہ:۔ ’’جس نے عمداً میری طرف کوئی غلط بات منسوب کی، وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے۔‘‘
آپ کے اس مختصر سے مضمون میں بہت سی ایسی باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی گئی ہیں، جو قطعاً خلافِ واقعہ ہیں۔
سوم:۔ دِین فہمی کے معاملے میں میری اور آپ کی رائے حجت نہیں، بلکہ اس بارے میں حضراتِ صحابہؓ و تابعینؒ اور اَئمہ ہدیٰ کا فہم لائقِ اعتماد ہے۔ قرآنِ کریم کی کسی آیت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ارشاد سے کوئی ایسی بات نکال لینا جو صحابہؓ و تابعینؒ اور اکابرِ اُمت کے فہم و تعامل سے ٹکراتی ہو، ہمارے لئے کسی طرح روا نہیں۔ آج کل اس معاملے میں بڑی بے احتیاطی ہو رہی ہے، اور اسی کی جھلک آپ کے مضمون میں بھی نظر آتی ہے۔ سلامتی کا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے نظریات کی تصحیح ان اکابر کے تعامل سے کریں، یہ نہیں کہ اپنے نظریات کے ذریعہ ان اکابر کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے بیٹھ جائیں، حتیٰ کہ جو اُمور ان اکابر کے درمیان مختلف فیہ نظر آتے ہوں، ان میں بھی کسی ایک جانب کو گمراہی نہیں کہہ سکتے۔
چہارم:۔ آنجناب نے اپنے مضمون کے آغاز میں علمائے کرام پر اہم دِینی معاملات میں غفلت برتنے کا الزام عائد کیا ہے، اور مضمون کے آخر میں علمائے کرام کو نصیحت فرمائی ہے:
’’اُمید ہے علمائے اسلام عامۃ الناس کو سود کی یہ مصطفوی تشریح سمجھاکر انہیں شریعتِ اسلامی کی رُو سے سب سے بڑے سنگین جرم سے بچانے کی کوشش کریں گے۔‘‘
یہ تو اُوپر تفصیل سے عرض کرچکا ہوں کہ آپ نے مضمون میں جو کچھ لکھا ہے وہ ’’سود کی مصطفوی تشریح‘‘ نہیں، بلکہ اپنے چند ذہنی مفروضوں کو آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرکے اس کا نام ’’مصطفوی تشریح‘‘ رکھ دیا ہے۔ اس لئے علمائے کرام سے یہ توقع تو نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ کسی کے خود تراشیدہ نظریات کو ’’مصطفوی تشریح‘‘ تسلیم کرلیں، اور لوگوں کو بھی اس کی تلقین کرتے پھریں۔ البتہ آپ سے یہ گزارش ضرور کروں گا کہ علمائے کرام کے بارے میں آپ نے غفلت اور کوتاہی کا جو اِلزام عائد کیا ہے، اس سے آپ کو رُجوع کرلینا چاہئے۔ بلاشبہ علمائے کرام معصوم نہیں، انفرادی طور پر ان سے فکری لغزشیں یا عملی کوتاہیاں ضرور ہوسکتی ہیں، لیکن پوری کی پوری جماعتِ علماء کو موردِ طعن بنانا اور ان پر دِین کے اہم ترین معاملات میں غفلت و کوتاہی کا اِلزام عائد کرنا بڑی بے جا بات ہے۔ دِین بہرحال علمائے دِین ہی سے حاصل ہوسکتا ہے، اور علمائے کرام کی پوری کی پوری جماعت کو مطعون کرنا درحقیقت دِین سے بے اعتمادی ظاہر کرنے کو مستلزم ہے۔ اور حضرت مجدّدؒ کے الفاظ میں:
’’تجویز نہ کند ایں معنی مگر زندیقے کہ مقصودش ابطال شطر دین است، یا جاہلے کہ از جہل خود بے خبر است۔‘‘
موجودہ دور کے علماء اگر حضرات صحابہؓ و تابعینؒ اور سلف صالحینؒ کے راستے سے ہٹ گئے ہیں اور ان اکابر کے خلاف کوئی بات کہتے ہیں تو آپ اس کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ مجھے توقع ہے کہ علمائے کرام اِن شاء اللہ اس کو ضرور قبول فرمائیں گے۔ لیکن اگر علمائے اُمت، بزرگانِ سلفؒ کے نقشِ قدم پر گامزن ہیں تو آپ کا طعن علماء پر نہیں ہوگا بلکہ سلف صالحینؒ پر ہوگا، اور اس کی قباحت میں اُوپر عرض کرچکا ہوں۔
آخر میں پھر گزارش کرتا ہوں کہ ان گزارشات کو اِخلاص پر مبنی سمجھتے ہوئے ان پر توجہ فرمائیں۔
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ صَفْوَۃِ الْبَریَّۃِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَتْبَاعِہٖ إِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ!
(۱) جابر بن عبداللہ یقول: کنا فی زمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نأخذ الأرض بالثلث أو الربع بالماذیانات فقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ذالک فقال: من کانت لہ أرض فلیزرعھا فإن لم یزرعھا فلیمنحھا أخاہ فإن لم یمنحھا أخاہ فلیمسکھا۔ وقال الْإمام النووی فی شرحہ: ومعنی ھٰذہ الألفاظ انھم کانوا یدفعون الأرض إلٰی من یزرعھا ببذر من عندہ علٰی أن یکون لمالک الأرض ما ینبت علی الماذیانات وإقبال الجداول أو ھٰذہ القطعۃ والباقی للعامل فنھوا عن ذالک لما فیہ من الغرر فربما ھلک ھٰذا دون ذاک وعکسہ۔ (صحیح مسلم مع شرحہ ج:۲ ص:۱۲، باب کراء الأرض)۔
(۲) وفی مختارات النوازل لصاحب الھدایۃ لَا بأس ببیع بنائھا وإجارتھا۔ (الدر المختار ج:۶ ص:۳۹۳، کتاب الحضر والْإباحۃ، فصل فی البیع، طبع ایچ ایم سعید)۔
(۳) وروی ھشام عن أبی یوسف عن أبی حنیفۃ أنہ أکرہ إجارۃ بیوت مکۃ فی الموسم (أی الحج)۔ (شامی، کتاب الحظر والْإباحۃ ج:۶ ص:۳۹۳، حاشیہ ھدایۃ ج:۴ ص:۴۷۳)۔
(۴) قال فی التنویر: وجاز بیع بناء بیوت مکۃ وأرضھا ۔۔۔إلخ۔ قال فی الدر المختار: وفی مختارات النوازل لصاحب الھدایۃ لَا بأس ببیع بنائھا وإجارتھا لٰکن فی الزیلعی وغیرہ یکرہ إجارتھا وفی آخر الفصل الخامس من التتارخانیۃ وإجارۃ الوھبانیۃ قالَا قال أبوحنیفۃ أکرہ إجارۃ بیوت مکۃ فی أیام الموسم وکان یفتی لھم أن ینزلوا علیھم فی دورھم لقولہ تعالٰی: ﵟ سَوَآءً ٱلۡعَٰكِفُ فِيهِ وَٱلۡبَادِۚ ﵞ الحج ٢٥، ورخص فیھا فی غیر أیام الموسم اھـ فلیحفظ۔ قال الشامی: ورویٰ ھشام عن أبی یوسف عن أبی حنیفۃ أنہ أکرہ إجارۃ بیوت مکۃ فی موسم ورخص فی غیرہ، وکذا قال أبویوسف وقال ھشام: أخبرنی محمد عن أبی حنیفۃ انہ کان یکرہ کراء بیوت مکۃ فی الموسم ویقول لھم أن ینزلوا علیھم فی دورھم إن کان فیھا فضل وإن لم یکن فلا وھو قول محمد، وحاصلہ ان کراھۃ الْإجارۃ لحاجۃ أھل الموسم یحمل الکراھۃ علٰی أیام الموسم وعدمھا علٰی غیرھا۔ (شامی ج:۶ ص:۳۹۳، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔
(۵) قالت الحنفیۃ انہ یختص المنع من ذٰلک بزمن الغلاء وبما یحتاج إلیہ أھل المصر وقالت الشافعیۃ والحنابلۃ ان الممنوع انما ھو ان یجیء البلد بسلعۃ یرید بیعھا بسعر الوقت فی الحال فیأتیہ الحاضر فیقول ضعہ عندی لأبیعہ لک علی التدریج بأغلٰی من ھٰذا السعر، قال فی الفتح فجعلوا الحکم منوطًا بالبادی ومن شارکہ فی معناہ، قالوا وإنما ذکر البادی فی الحدیث لکونہ الغالب فألحق بہ من شارکہ فی عدم معرفۃ السعر من الحاضرین وجعلت المالکیۃ البداوۃ قیدًا وعن مالک لَا یلتحق بالبدوی فی ذٰلک إلّا من کان یشبھہ فأما القری الذین یعرفون أثمان السلع والأسواق فلیسوا داخلین فی ذٰلک وحکی ابن المنذر عن الجمھور ان النھی للتحریم إذا کان البائع عالمًا والمبتاع مما تعم الحاجۃ إلیہ ولم یعرضہ البدوی علی الحضری ولَا یخفی أن تخصیص العموم بمثل ھٰذہ الأمور من التخصیص بمجرد الْإستنباط۔ (نیل الأوطار للشوکانی ج:۵ ص:۲۶۴، طبع بیروت)۔

